پانی کی شدید قلت کولیکر ماگام آشکن پورہ میں احتجاج

جموں و کشمیر کے61ہزار عارضی ملازمین کا مستقبل داوپر

سری نگر//سرینگر کے پریس کالونی میں تمام ملازم انجمنوں کے لیڈران کی جانب سے عارضی ،ایڈ ہاک اور دیگر ملازمین کو مستقل کرنے کے حق میں ایک زور دار احتجاج کیا ہے جس میں کئی انجمنوں کے درجنوں لیڈران نے حصہ لیا ہے ۔احتجاج میں شامل لوگوں نے بتایا اگر سرکاری اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی تو اگلا احتجاج ضلع سطح مقامات پر ہوگاجس کی تمام زمہ داری سرکار پر عائد ہو گی ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق مرکز کے زیر انتظام خطہ جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر کے پریس کالونی میں جموں و کشمیر ایمپلائیز یونائیٹڈ فرنٹ کے بینر تلے متعدد ملازم یونینوں کے لیڈران کی جانب سے عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کے مطالبہ پر احتجاج کیا گیا۔ احتجاج میں شامل ملازمین کے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھے جن پر ہمارے ساتھ انصاف کرو جیسے نعرے درج تھے۔جبکہ چند لیڈران نے منہ پر بھی پٹیاں باندھی تھی ۔اتوار کے روزسرینگر کے پریس کالونی میں جموں و کشمیر ایمپلا ئیز یونائیٹڈ فرنٹ کے کارکنان کی جانب سے مختلف محکموں میں 61ہزارسے زائد عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کے مطالبہ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔اس دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے فرنٹ سربراہ محمد رفیق راتھر نے کہا کہ 1994سے لے کر اب تک نامساعد حالات، تباہ کن سیلاب اور عالمی وبا کورنا وائرس کے دوران عارضی ملامین نے مستقل ملازمین کے شانہ بہ شانہ اپنی خدمات انجام دیں، مگر انہیں قلیل تنخواہیں دی گئیں۔مستقل ملازمت کے مطالبات کو لے کراحتجاجانہوں نے مزید کہا کہ حکام کی جانب سے متعدد دفعہ یقین دہانی اور اعلانات کے باوجود ابھی تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے۔ اس کے سبب 61ہزار سے زائد خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہیں اور کسمپرسی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔اس دوران ملازمین نے اپنی عارضی ملازمت کو مستقل ملازمت میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہو ں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو بڑے پیمانے ہر احتجاج کو پھیلا کر ضلع سطح مقامات تک پہناچایا جائے گا اور امن قانونی یا دیگر کسی پریشان کی زمہ داریی سرکار پر عائد ہوئی ۔