جموں و کشمیر کے کان کنی شعبے کو دو ماہ میں 137 کروڑ روپے آمدنی

غیر قانونی کان کنی روکنے کے لیے نگرانی مزید سخت کرنے کی ہدایت

سرینگر//یواین ایس / جموں و کشمیر کے کان کنی شعبے نے سال 2026 کے ابتدائی دو مہینوں کے دوران 137.27 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی ہے۔ یہ بات چیف سیکریٹری اٹل ڈولو نے بدھ کو ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بتائی۔اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری نے حکام کو ہدایت دی کہ غیر قانونی کان کنی کی روک تھام کے لیے نگرانی اور نفاذ کے اقدامات کو مزید سخت کیا جائے تاکہ اس شعبے سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔میٹنگ میں کان کنی کے شعبے میں اصلاحات، معدنیات کی غیر قانونی نکاسی کو روکنے، نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور محصولات میں بہتری سے متعلق اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر چیف سیکریٹری نے انٹیگریٹڈ مائننگ سرویلنس سسٹم (آئی ایم ایس ایس) کا بھی جائزہ لیا جو ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے اور جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں معدنی مواد لے جانے والی گاڑیوں کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لائیو ڈیمونسٹریشن دیکھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ غیر قانونی کان کنی پر مؤثر قابو پانے کے لیے اس نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔یو این ایس کے مطابق اٹل ڈولو نے محکمہ کو ہدایت دی کہ بھاسکر آچاریہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسپیس اپلیکیشنز اینڈ جیو انفارمیٹکس کے ساتھ مل کر ایسے خودکار نظام تیار کیے جائیں جو غیر قانونی کان کنی یا منظور شدہ علاقوں سے باہر معدنیات نکالنے کی سرگرمیوں کی فوری نشاندہی کر سکیں۔ انہوں نے خودکار الرٹس کی فریکوئنسی کو ہفتہ وار کرنے اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے واضح ٹائم لائن طے کرنے پر بھی زور دیا۔اجلاس میں معدنی بلاکس کی ای آکشننگ کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکریٹری نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ نشاندہی شدہ معمولی معدنی بلاکس کے لیے درکار منظوریوں کے عمل کو تیز کیا جائے کیونکہ کئی معاملات اس وقت مختلف مراحل میں زیر التوا ہیں، جن میں ماحولیاتی اثرات کے جائزے، جموں و کشمیر پولوشن کنٹرول کمیٹی کی منظوری اور جنگلات سے متعلق اجازت نامے شامل ہیں۔