جموں و کشمیر کی پنشن ادائیگیاں آئندہ دہائی میں دوگنی ہونے کا امکان

جموں و کشمیر کی پنشن ادائیگیاں آئندہ دہائی میں دوگنی ہونے کا امکان

2030 تک پنشن اخراجات تقریباً 12 ہزار کروڑ روپے تک پہنچنے کی پیش گوئی

سرینگر/ یو این ایس / جموں و کشمیر حکومت کی پنشن ادائیگیوں میں آئندہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ متوقع ہے اور سرکاری اندازوں کے مطابق سال 2020 سے 2030 کے درمیان پنشن بل تقریباً دوگنا ہو جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت تقریباً 2.48 لاکھ ریٹائرڈ ملازمین کو حکومت کی جانب سے پنشن اور دیگر مراعات ادا کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے خزانے پر بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2020-21میں حکومت نے ریٹائرڈ ملازمین کو 5,829 کروڑ روپے پنشن کی مد میں ادا کیے تھے، تاہم اندازہ ہے کہ یہ رقم بڑھ کر 2030-31تک تقریباً 11,798 کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی۔گزشتہ چند برسوں کے دوران بھی پنشن اخراجات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری تفصیلات کے مطابق 2021-22میں 6,668 کروڑ روپے، 2022-23میں 7,463 کروڑ روپے، 2023-24میں 8,364 کروڑ روپے، 2024-25میں 9,350 کروڑ روپے جبکہ 2025-26میں تقریباً 9,127 کروڑ روپے پنشن کی مد میں خرچ کیے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ آنے والے برسوں میں بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین ریٹائر ہونے والے ہیں، اس لیے پنشن کے اخراجات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ تاہم اندازہ ہے کہ 2040 کی دہائی کے اوائل تک یہ بوجھ بتدریج مستحکم ہونا شروع ہو جائے گا کیونکہ پرانے پنشن نظام کے تحت آنے والے ملازمین کی بڑی تعداد اس وقت تک ریٹائر ہو چکی ہوگی۔حکومتی عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ پرانا پنشن نظام دوبارہ بحال کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے کیونکہ یہ طویل مدت میں مالی طور پر غیر پائیدار ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے سرکاری خزانے پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔حکام کے مطابق یکم جنوری 2010 کے بعد تعینات ہونے والے ملازمین کے لیے نیا پنشن نظام نافذ کیا گیا تھا، جس کے تحت پنشن ایک باقاعدہ فنڈ اور سرمایہ کاری کے ذریعے منظم کی جاتی ہے، جبکہ پرانے نظام میں اس نوعیت کا کوئی مستقل فنڈ موجود نہیں تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر چونکہ زیادہ تر اخراجات پر مبنی معیشت رکھتا ہے اور آمدنی کے ذرائع محدود ہیں، اس لیے پنشن کی ذمہ داریوں میں تیزی سے اضافہ مالی نظم و نسق کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ حکومت ایک طرف اہل پنشنرز کے حقوق کو یقینی بنا رہی ہے جبکہ دوسری جانب اس بات کا بھی خیال رکھا جا رہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز متاثر نہ ہوں۔ اندازہ ہے کہ جب 2040 کے بعد پنشن اخراجات میں استحکام آئے گا تو حکومت کو ترقیاتی شعبوں کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہوں گے۔