سری نگر//جموں وکشمیرپولیس کی جانب سے منشیات فروشوں کیخلاف گزشتہ کچھ برسوں سے جاری ہمہ گیرمہم کے بیچ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورئوNCRBنے اپنی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا ہے کہ جموں وکشمیرمیں گزشتہ برس یعنی2020میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت1222مقدمات درج کئے گئے جبکہ اس دوران منشیات کاغیرقانونی دھندہ کرنے اورمنشیات کاخوداستعمال کرنے والے1400سے زیادہ ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔جے کے این ایس کے مطابق نیشنل کرائم ریکارڈبیورئو کی جاری کردہ سال2020کی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیاگیا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ اوراسکے استعمال کے معاملے میں جموں وکشمیر سبھی مرکزی زیرانتظام علاقوں میں سرفہرست ہے ۔رپورٹ کے مطابق سال2020میں جموں وکشمیر میں مختلف منشیات بشمول برائون شوگر،ہیروئین ،چرس اورفکی وغیرہ کی اسمگلنگ میں ملوث منشیات فروشوں کیخلاف مختلف پولیس تھانوں میں NDPSایکٹ کے تحت 1222مقدمات درج کئے گئے ۔رپورٹ کے مطابق یہ سبھی مقدمات’ نارکوٹکس ڈرگس اور سائیکو ٹروپک سبسٹنس ایکٹ 1985 ‘کے تحت درج ہوئے ۔خیال رہے NDPSایکٹ1985کے تحت منشیات کی مختلف اقسام یا مادے کی کاشت ،پیداوار،کھپت اورنقل وحمل یعنی اسمگلنگ ایک سنگین جرم ہے اوراس جرم کاارتکاب کرنے والے افرادکیخلاف اس قانون میں سخت کارروائی کی گنجائش موجودہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورئوNCRB کی جاری کردہ رپورٹ میں درج اعداد و شمار کے مطابق ، جموں و کشمیر میں گزشتہ برس یعنی سال2020میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت منشیات فروشوں اورنوشوں کیخلاف1222 مقدمات درج کئے گئے ،جن میں سے289 افراد کیخلاف خوداستعمال کے لئے منشیات رکھنے اور933افرادکیخلاف منشیات کی اسمگلنگکی پاداش میں مقدمات درجکئے گئے۔رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیاہے کہ منشیات اسمگلنگ کے سلسلے میں درج مقدمات کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہمنشیات کی اسمگلنگ اوراسکے استعمال کے معاملے میں جموں وکشمیر سبھی مرکزی زیرانتظام علاقوں میں سرفہرست ہے،کیونکہ سب سے زیادہ 1222مقدمات جموں و کشمیر میں رجسٹرڈ ہوئے۔جبکہ 8 مرکزی علاقوں میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مجموعی طور پر2206 مقدمات درج کیے گئے۔جموں و کشمیر کے بعد دہلی اور چندی گڑھ ہیں جہاں این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت بالترتیب 748 اور 134 مقدمات درجکئے گئے ہیں۔بتایا جاتاہے کہ منشیات اسمگلنگ کے سلسلے میں درج کئے گئے کیسوں کے تحت گرفتار1400افرادانسدادمنشیات اسمگلنگ ،کاروبار وپیدارارقانون NDPSایکٹ یاقانون کے تحت جموں و کشمیر کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔










