کشمیری پنڈت مستقل واپسی نہیں چاہیں گے

جموں و کشمیر کی ریاست کو آئینی احترام کیلئے بحال کیا جانا چاہیے

جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا حل نہیں ، ہم وہ راہ تلاش کرنی چاہئے جو سب کیلئے قابل احترام ہو / ڈاکٹر فاروق

سرینگر // اگر ملک کے آئین کا احترام کرنا ہے تو جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کو بحال کیا جانا چاہئے کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ حالیہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کو روکا جا سکتا تھا اگر مقامی حکومت سیکورٹی کی ذمہ دار ہوتی۔سی این آئی کے مطابق نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی ریاست کو آئینی احترام کے لیے بحال کیا جانا چاہیے۔ جموں میں میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا ’’اگر ہندوستان کے آئین کا احترام کرنا ہے تو ریاستوں کو کبھی بھی یوٹیز میں تبدیل نہیں کیا جاتا ہے، ایک یوٹی کو ریاست میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، المیہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک ریاست کو یوٹی میں تبدیل کر دیا اور انہوں نے کیا حاصل کیا؟۔ ‘‘ عبداللہ نے یاد کیا کہ چھ سال قبل 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کو منسوخ کرتے وقت وعدے کیے گئے تھے کہ دہشت گردی ختم ہو جائے گی۔انہوں نے کہا ’’کیا عسکریت پسندی ختم ہو گئی ہے؟ یا اس میں اضافہ ہوا ہے؟” انہوں نے کہا کہ مرکز کو پارلیمنٹ میں اس کا جواب دینا چاہئے‘‘۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ لوگ توقع کر رہے تھے کہ جموں و کشمیر کے لیے جلد ہی ریاست کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’’ پہلے سے ہی، تمام اپوزیشن پارٹیاں پارلیمنٹ میں بھی ہمارے لئے لڑ رہی ہیں… آپ نے حال ہی میں دیکھا ہے، (کانگریس صدر ملکارجن) کھرگے اور راہول گاندھی کا وزیر اعظم (نریندر مودی) کو خط جس میں کہا گیا تھا کہ ریاست کو بحال کیا جانا چاہیے۔ عبداللہ نے یاد دلایا کہ مرکزی حکومت نے ہم سے پارلیمنٹ میں وعدے کیے ہیں اور سپریم کورٹ میں بھی وعدے کیے ہیں۔ ‘‘ موجودہ صورتحال پر غور کرتے ہوئے، عبداللہ نے سیکورٹی اور انتظامی معاملات پر منتخب حکومت کے کنٹرول کے فقدان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پہلگام میں حالیہ دہشت گردانہ حملے کو روکا جا سکتا تھا اگر مقامی حکومت سیکورٹی کی انچارج ہوتی۔لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے پہلگام میں سیکورٹی کی ناکامی کا اعتراف کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے عبداللہ نے کہا،’’مجھے خوشی ہے کہ لیفٹنٹ گورنر نے اپنی ناکامی کو تسلیم کر لیا ہے۔ انہیں مستعفی ہونے کی ہمت کرنی چاہیے تھی‘‘۔جموں و کشمیر کو راجیہ سبھا کے انتخاب سے کیوں انکار کیا گیا؟ انہوں نے کہا. اتنا ہی نہیں اسمبلی میں دو سیٹیں خالی ہیں، الیکشن کمیشن کیا کر رہا ہے؟ نیشنل کانفرنس کے سربراہ نے پارٹی میں اندرونی اختلافات کی باتوں کو مسترد کردیا۔انہوں نے پارٹی اور سرینگر کے رکن اسمبلی آغا روح اللہ مہدی کے درمیان اختلاف رائے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا،’’یہ پارٹی ایک جمہوری پارٹی ہے، یہ بی جے پی کی طرح نہیں ہے، جو ایک آمرانہ پارٹی بن گئی ہے۔ یہاں لوگوں کو جو چاہیں بولنے کا حق ہے‘‘۔پاکستان کے کردار پر عبداللہ کا موقف مضبوط تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمت ہارنے والا نہیں ہے، اس لیے آگے بڑھنے کا راستہ کیا ہے؟ جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔انہوں نے ایک پرامن حل کی وکالت کی جو ہندوستان کے لیے قابل احترام، پاکستان کے لیے قابل احترام اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے قابل احترامہو۔علیحدگی پسند رہنما بلال لون کے قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں، انہوں نے کہا، ’’میں بہت خوش ہوںکہ انہوں نے محسوس کیا ہے کہ جموں کشمیر ہندوستان کا ایک حصہ ہے ۔ ‘‘