جموں و کشمیر کو گڈ گورننس انڈیکس رکھنے والا ملک کا پہلا مرکز کے زیر انتظام علاقہ

جموں کشمیر میں مجموعی طور پر 23 فیصد سے زائد جنگلات تباہی کے دہانے پر آکھڑا ہوا ہے: رپورٹ

سری نگر//جموں و کشمیر کے مرکزی علاقوں میں 23 فیصد سے زائد جنگلات کو تباہی کا سامنا ہے اور سرکار کی جانب سے جب تک نہ کچھ موثر اور مناسب اقدامات اٹھائے جاسکے گے تب تک جنگلات کی بہتری میں نمایاں تبدیلی نہیں آسکتی ہے۔ تاہم قواعد و ضوابط کے مطابق سالانہ رپورٹ کے بروقت تیاری پر توجہ مرکوز نہیں ہے اور معاوضہ افارسٹیزشن فنڈ مینجمنٹ اور منصوبہ بندی اتھارٹی (CAMPA) کے اکاؤنٹس کے مالیاتی آڈٹ کو تیز نہیں کیا جارہا ہے جو یقینی طور پر اس حوالے سے بہت ہی ضروری اقدامات تھے. سرکاری اعداد و شمار سے کے این ایس کو معلوم ہوا ہے کہ جموں خطے کا جغرافیائی علاقہ 26293 مربع کلومیٹر ہے جس میں 12066مربع کلومیٹر پر جنگلات پھیلے ہوئے ہیں یعنی (جغرافیائی علاقہ کے 45.89 فیصد) ہے جبکہ کشمیر کا جغرافیائی علاقہ 15948 مربع کلومیٹر پر ہے جس میں سے 8128 مربع کلومیٹر جنگلات آباد ہیں یعنی (جغرافیایی علاقے کا 50.97 فیصد) ہے. سرکاری ورکنگ پلان میں بتایا کہ کہ جموں ک کشمیر کا مجموعی طور پر 4520مربع کلومیٹر پر پھیلے جنگلات تباہی کے مختلف مراحل سے گزر رہا ہے اور مزکورہ جنگلات کی بحالی کے لئے سفارش کی گئی ہے، جبکہ کچھ جنگلات جو پہلے سے ہی اچھی طرح سے ذخیرہ شدہ تھے وہ وقت گزرنے کے ساتھ خراب ہو چکے ہیں اور اسے بھی کیمپ کے تحت آباد کرنے کی ضرورت ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں جنگلات کی تبادی کا اہم وجہ یہ ہی کہ یہاں کے جنگلات بہت دباؤ میں ہیں کیونکہ آبادی میں تیزی سے اضافہ کی وجہ سے چارہ، جانوروں کی پیداوار کے لئے بڑھتی ہوئی مطالبات،عمارتی لکڑی کی بڑھتی ہوئی مانگ وغیرہ شامل ہے۔ کے این ایس ذرائع کے مطابق کہ جموں و کشمیر میں سال 2001میں انسانی آبادی 1.01 کروڑ تھی لیکن یہ شرح بڑھ کر سال 2011 میں 1.25کروڑ تک ہوگئی ہے ،اس کے علاوہجموں کشمیر میں مویشیوں کی آبادی اوپر تک پہنچ چکی ہے جو اب 1.10 کروڑ تک ہوگئی ہے اور بنیادی طور پر انکا درمدار جنگلات پر ہی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ “کوئی شک نہیں ہے کہ CAMPA جے اینڈ کے میں ضائع شدہ جنگلات کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، لیکن کچھ اہم پہلوؤں کی وجہ سے جنگلات کے شعبے کی طرف توجہ نہیں دی گئی ہے اور ایسا کیوں کیا گیا یہ محکمہ جنگلات کے افسران ہی بتا سکتے ہیں۔ معاملات کے ہلم کے تمام معروف وجوہات کی وجہ سے توجہ نہیں دی ہے.۔ذرائع نے بتایا کہ جموں کشمیر میں CAMPA اسکیم کے تحت ہورہے کام کاج اور سرمایہ کاری کی سالانہ رپورٹ تیار کرنی کی ضرورت ہے تاکہ تمام سرگرمیوں کی مختصر وضاحت سامنے آسکے۔ سرکاری میٹنگوں میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیمپ سیکریٹریٹ مالی سال 2019-20 اور 2020-21کے لئے سالانہ رپورٹوں کی تیاری کر رہا ہے اور اسی سال حتمی طور پر تیار کیا جارہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کمپوٹر اور آڈیٹر جنرل 2015-16سے 2019-20- کے عرصے کے دوران “کیمپنگ کے مینجمنٹ کے انتظام” کے عنوان سے آڈٹ کر رہا ہے جبکہ اے جی آڈٹ ٹیموں نے تمام نافذ کرنے والے ایجنسیوں اور کیمپ سیکریٹریٹ کے اکاؤنٹس کا بھی آڈٹ کیا ہے اور فیلڈ انسپکشنز بھی کیا تاہم ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مالی آڈٹ اب بھی ایک سست رفتار پر چل رہا ہے جبکہ کئی بار وقت میں توسیع کے باوجود یہ مکمل نہیں کیا گیا ہے اور جہاں تک تیسری پارٹی کی نگرانی کا تعلق ہے جو بھی ایک اہم مشق ہے یہ کام جموں کے علاقے میں اگرچہ مکمل ہو گیا ہے اور یہاں تک کہ رپورٹ بھی موصول ہوئی ہے لیکن کشمیر میں ابھی تک یہ کام منطقی نتیجہ پر نہیں پہنچا ہے۔