رمضان المبارک میں لوگوں کو بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی پر ساگر کا اظہارِ افسوس

جموں و کشمیر کو زبردست سیاسی چیلنجوں کا سامنا:ساگر

سرینگر// نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری ایڈوکیٹ علی محمد ساگر نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر پر شہر خاص کے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو نہ صرف اس وقت زبردست سیاسی چیلنجوں کا سامنا ہے بلکہ انتظامی خلفشار اور انتشار بھی لوگوں پر بھاری پڑ رہا ہے۔ عام لوگوں کی زندگی اس وقت اجیرن بن کر رہ گئی ہے اور حکومتی سطح پر لوگوں کی راحت رسانی کیلئے کوئی بھی ٹھوس اقدام نہیں اُٹھایا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب ذرائع ابلاغ اور تشہیر بازی کے ذریعے زمین آسمان کے قلابے ملانے کے دعوے کئے جارہے ہیں۔ اجلاس میں سینئر نائب صدر صوبہ حاجی محمد سعید آخون اور یوتھ صوبائی صدر سلمان علی ساگر اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔ ساگر کا کہنا تھا کہ افسر شاہی میں عوام کا کوئی پُرسان حال نہیں۔سی این آئی کے مطابق انہوںنے کہا کہ گذشتہ برسوں کے دوران شہر سرینگر کی تعمیر و ترقی کیلئے بڑے بڑے اعلانات کئے گئے لیکن سب عبث ثابت ہوا۔ حق تو یہ ہے کہ نیشنل کانفرنس حکومت میں جو پروجیکٹ شروع کئے گئے وہ آج بھی تشنہ تکمیل ہیں۔ شہر سرینگر کیلئے رنگ روڑ، سمارٹ سٹی اور میٹرو ریل کے خواب دکھائے گئے لیکن سب کچھ زبانی جمع خرچ ثابت ہوا۔ 2014سے قبل نیشنل کانفرنس حکومت کے دوران جن سڑک پروجیکٹوں کی کشادگی شروع کی گئی تھی وہ کام ٹھپ پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران سرینگر کو سمارٹ سٹی بنانے کے دعوے کررہے ہیں لیکن یہاں کی آبادی بجلی اور پینے کے پانی جیسی بنیادی ضرورت کیلئے ترسیا جارہاہے۔ بجلی کی سپلائی پوزیشن میں کوئی بہتری نہیں لائی جارہی ہے۔ ٹریفک کی بدنظمی سے لوگوں کا عبرور و مرور بہت ہی زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔ غریب ڈیلی ویجروں اور دیگر ملازموں کو تنخواہوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ الغرض انتظامیہ ہر جگہ اور ہر سطح پر ناکام ہوچکی ہے۔ جس سے عوام کو گوناگوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑھ رہا ہے۔ اجلاس میں علی محمد ساگر اور محمد سعید آخون نے 11جولائی یوم وصال مادرِ مہربان اور 13جولائی یوم شہدائے کشمیر کے اہمیت اور افادیت بیان کی۔ انہوں نے پارٹی سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ لوگوں کے ساتھ قریبی تال میں رکھیں اور اُن کے دکھ سکھ میں کام آئیں۔