جموں//سماجی بہبود کے شعبے کے تحت سکیمیں جیسے بوڑھے افراد ، مصیبت زدہ خواتین ، جسمانی طور پر معذور افراد ، غذائی قمت کے شکار بچے ، دودھ پلانے والی اور حاملہ خواتین ، درج فہرست ذات ، درجہ فہرست قبائل ، دیگر پسماندہ طبقات اور دیگر معاشی طور پر کمزور طبقات ، معاشرے کے ان طبقات کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں معاشرے کا اہم کردار ہے ۔ قومی ترقی کے اقدامات کے ایک حصے کے طور پر پسماندہ اور معاشرے کے کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے عزم زبردست ہے ۔ اس طرح اس عہد کی تکمیل میں سماجی بہبود کے شعبے کا کردار اہم ہو جاتا ہے اور یہ ان طبقوں کی تکالیف کو کم کرنے اور انسداد غربت کے اقدامات کے ذریعے دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ جموں و کشمیر کے سالانہ بجٹ میں پچھلے تین برسوں کے دوران زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2019-20 میں جموں و کشمیر کے پاس 88911 کروڑ مالیت کا بجٹ تھا جو 2020-21 کیلئے ایک لاکھ کروڑ روپے تک چلا گیا اور اس سال جموں و کشمیر نے 2022-23 کیلئے مجموعی طور پر 1.13 لاکھ کروڑ روپے ( خالص ) حاصل کئے ہیں ۔ بجٹ میں یہ خاطر خواہ اضافہ بنیادی طور پر یو ٹی کے محکمہ خزانہ کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے ہے جس کے بغیر سرکاری خزانے میں طویل عرصے سے کوئی بل زیر التوا نہیں ہے جیسا کہ پہلے ہوا کرتا تھا ۔ سماجی بہبود کے شعبے کیلئے سال 2022-23 کیلئے کیپٹل اخراجات کے تحت تقریباً 198.07 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جو کہ پچھلے سال کے بجٹ کی مختص رقم سے 4.93 کروڑ روپے زیادہ ہے ۔ نئے بجٹ میں 2022-23 میں تمام انفرادی استفادہ کنندگان کی اسکیموں کے تحت صد فیصد کوریج کو یقینی بنایا جائے گا ۔ یو ٹی کے تمام اضلاع میں استفادہ کنندگان کی دہلیز پر غذائی اشیاء اور اضافی غذائی اشیاء کی تقسیم کی جا رہی ہے ۔ تمام اضلاع میں اولڈ ایج ہوم قائم کرنے کی بھی تجویز ہے ۔ تمام معذور افراد کو موٹرائیزڈ ٹرائی سائیکلیں فراہم کی جائیں گی جس سے صد فیصد سیچوریشن لیول حاصل کیا جائے گا جس کیلئے 25 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تعاون سے تمام آنگن واڑی مراکز کی جیو ٹیگنگ کی جائے گی ۔ تقریباً 888359 مستفیدین کو انٹی گریٹڈ سوشل سیکورٹی اسکیم ( آئی ایس ایس ایس ) اور قومی سماجی امداد پروگرام ( این ایس اے پی ) کے تحت 1000 روپے ماہانہ کی شرح سے پینشن کے فوائد فراہم کئے گئے ۔ سماجی تحفظ اور پنشن سکیموں کے تحت فائدہ اٹھانے والوں میں 59 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ ایک تاریخی قدم میں پہلی بار ٹرانس جینڈر آبادی کو آئی ایس ایس ایس کے تحت پنشن کے فوائد کیلئے شامل کیا گیا ہے ۔ بے گھر کشمیریوں کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے جو اس حقیقت سے عیاں ہے کہ 1025 ٹرانزٹ اکاموڈیشن یونٹ پہلے ہی مکمل یا کافی حد تک مکمل ہو چکے ہیں ۔ 1488 یونٹس تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں اور ٹرانزٹ رہائش کے 2744 یونٹس پر کام شروع کر دیا گیا ہے ۔ پی ایم پیکج /پی ایم ڈی پی 2015 کے تحت کشمیری تارکین وطن کیلئے بنائی گئی 6000 آسامیوں میں سے 4678 آسامیاں پُر کر دی گئی ہیں اور بقیہ آسامیاں پُر کی جا رہی ہیں ۔ 2022-23 میں سیکورٹی سے متعلق اخراجات ( ایس آر ای ) کے تحت اناج ، نقد امداد اور دیگر فوائد کی فراہمی جاری رہے گی ۔ قبائلی فلاح و بہبود کو بھی بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔ قبائلی امور کیلئے 2022-23 کیلئے تقریباً 282.23 کروڑ روپے کی مختص کیپٹل اخراجات کے تحت کئے گئے ہیں جو پچھلے سال کے بجٹ کے مختص کے برابر ہے ۔ نئے بجٹ میں گجر اور بکروال طلباء اور ایس ٹی طلباء کو پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کی صد فیصد کوریج اور 2022-23 میں ڈی بی ٹی کے ذریعے صد فیصد تقسیم کی توقع ہے ۔ اس کے علاوہ 2022-23 میں 14 دودھ دیہات کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ 29 کلسٹر ٹرائبل ماڈل ولیجز قائم کئے جا رہے ہیں اور عمل درآمد کے مختلف مراحل میں ہیں ۔ نیز 2022-23 میں 3.50 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت کے ساتھ سات ٹرانزٹ رہائش /شیلٹر شیڈز کی تعمیر شروع کی جائے گی ۔ ایس ٹی طلباء کیلئے چھ ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول قائم کئے جا رہے ہیں ۔ نیا بجٹ سماج کے تمام طبقات کیلئے جامع ترقی کی بنیاد رکھتا ہے اور حکومت مختلف سماجی اور قبائلی بہبود کے اقدامات کے ذریعے کمزور طبقوں کو بااختیار بنانے کی بہت خواہشمند ہے ۔










