4g tower

جموں و کشمیر میں 516 نئے 4G موبائل سائٹس فعال

2030 تک ایک ہزار ہنرمند آئی ٹی ملازمتوں کا ہدف

سرینگر//یو این ایس//جموں و کشمیر حکومت نے ڈیجیٹل شعبے میں وسعت کے تحت یونین ٹیریٹری میں 516 نئے 4جی موبائل سائٹس کو فعال بنانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ 2030 تک ایک ہزار سے زائد ہائی اسکل آئی ٹی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کیلئے آئی ٹی پارکس کے قیام کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔حکام کے مطابق حکومت نے جموں کشمیر آئی ٹی/ آئی ٹیز پالیسی 2020 اور جموں کشمیر کیمونکیشن ایند کنیکٹوٹی انفراسٹریکچر پالیسی کو نافذ کیا ہے تاکہ آئی ٹی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے، ٹیلی کام ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے اور مقامی نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔یو این ایس کے مطابق آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس پالیسی 2020 کے تحت جموں اور کشمیر دونوں ڈویڑنوں میں آئی ٹی پارکس کے قیام کیلئے فزیبلٹی اور تیاری کا کام شروع ہو چکا ہے۔ حکومت انڈئن انسٹی چیوٹ آف تیکنالوجی جموں اور کشمیر یونیورسٹی و جموں یونیورسٹی کے اشتراک سے ان منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ ان پارکس سے 2030 تک ایک ہزار سے زائد براہِ راست ہنرمند ملازمتیں پیدا ہوں گی اور 50 سے زائد ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس کو فروغ ملے گا۔یو این ایس کے مطابق پالیسی کے تحت سرمایہ کاری پر مالی اور غیر مالی مراعات فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں کیپیٹل سپورٹ، کرایہ واپسی، انٹرنیٹ بینڈوڈتھ کی ادائیگی، اسٹامپ ڈیوٹی میں چھوٹ یا ریفنڈ، ’ایس جی ایس ٹی‘واپسی اور مقامی نوجوانوں کی بھرتی پر مراعات شامل ہیں۔ کاروبار میں آسانی کیلئے سنگل ونڈو سسٹم بھی فعال کیا گیا ہے۔کنیکٹیویٹی کے شعبے میں جموں کشمیر کیمونکیشن ایند کنیکٹوٹی انفراسٹریکچر پالیسی کے تحت موبائل ٹاورز، آپٹیکل فائبر نیٹ ورک اور براڈبینڈ ڈھانچے کی توسیع پر کام جاری ہے۔ رائٹ آف وے اجازت ناموں کے طریقہ کار کو بھی آسان بنایا گیا ہے تاکہ منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جا سکے۔محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کی ڈیجیٹل بھارت ندھی اسکیم کے تحت 4G سیچوریشن پروجیکٹ پر عمل درآمد جاری ہے، جس کا مقصد یونین ٹیریٹری میں سو فیصد موبائل کنیکٹیویٹی فراہم کرنا ہے۔ اب تک 516 نئے 4G سائٹس فعال ہو چکے ہیں جبکہ باقی تمام منظور شدہ سائٹس پر کام مارچ 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اسی طرح ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروجیکٹ کے تحت تمام 4,291 گرام پنچایتوں تک آپٹیکل فائبر کنیکٹیویٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ 40 بلاکس اور 597 گرام پنچایتوں میں کام شروع ہو چکا ہے اور منصوبہ جون 2025 سے تین سال میں مکمل کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد دیہی و شہری ڈیجیٹل فرق کو کم کرنا اور آن لائن گورننس، ڈیجیٹل تعلیم، ٹیلی میڈیسن اور مالی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ضلع سطح پر تمام ہیڈکوارٹرز میں آئی ٹی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنایا گیا ہے، جس میں ویڈیو کانفرنسنگ سہولیات، محفوظ سرکاری پلیٹ فارمز تک رسائی اور قابل اعتماد انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی شامل ہے۔ سب ڈویڑن اور بلاک سطح تک بھی یہی سہولیات فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔حکومت نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں چھ بڑے آئی ٹی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں، جن میں سنٹر آف ایکسی لینس/آئی ٹی سیل کا قیام، آئی ٹی پروجیکٹس کا تھرڈ پارٹی آڈٹ اور ای آفس کے نفاذ میں معاونت شامل ہے۔ تمام منصوبے جنرل فنانشل رولز 2017 کے تحت جی ای ایم پورٹل یا ای ٹینڈرنگ کے ذریعے انجام دیے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ جے کے ای جی اے کے ذریعے اندرونی ماڈل اپنانے سے اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے اور ڈیٹا سکیورٹی کے ساتھ ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔حکومت کے مطابق یہ تمام اقدامات مرحلہ وار انداز میں جاری ہیں جن کا مقصد پائیدار روزگار کی فراہمی، ڈیجیٹل شمولیت اور جموں و کشمیر میں متوازن علاقائی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔