حیاتیاتی ایندھن کے پیلیٹ تیار کرنے والے یونٹ منصوبے تا ہنوز قائم نہیں
سرینگر// یواین ایس / مرکزی حکومت نے بتایا ہے کہ قومی بایوانرجی پروگرام کے پہلے مرحلے کے تحت جموں و کشمیر میں بایوماس پر مبنی 5 میگاواٹ کوجنریشن صلاحیت قائم کی گئی ہے، تاہم اب تک اس پروگرام کے تحت مرکز کے زیر انتظام علاقے میں بایوماس پیلیٹ مینوفیکچرنگ یونٹس، ویسٹ ٹو انرجی پلانٹس یا بایوگیس منصوبے قائم نہیں کیے گئے ہیں۔یہ بات نئی اور قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر مملکت شریپد یسو نائک نے راجیہ سبھا میں ایک غیر ستارہ سوال کے تحریری جواب میں بتائی۔ سوال ارکان پارلیمنٹ اجول دیوراؤ نکم سمیت دیگر اراکین کی جانب سے پوچھا گیا تھا۔وزیر نے بتایا کہ پروگرام کے پہلے مرحلے کے تحت ملک بھر میں بایوانرجی منصوبوں کے قیام کے لیے مرکزی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔یو این ایس کے مطابق وزارتِ نئی و قابل تجدید توانائی کے مطابق اس پروگرام کے تین بڑے اجزا ہیں جن میں ویسٹ ٹو انرجی پروگرام شامل ہے جس کے تحت شہری، صنعتی اور زرعی فضلے سے توانائی پیدا کی جاتی ہے۔ دوسرا بایوماس پروگرام ہے جس کے تحت بریکیٹ اور پیلیٹ تیار کرنے والے یونٹس کے ساتھ ساتھ صنعتوں میں نان بگاس بایوماس کوجنریشن منصوبوں کی حمایت کی جاتی ہے۔ تیسرا جز بایوگیس پروگرام ہے جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے بایوگیس پلانٹس قائم کرنا ہے۔وزارت کے مطابق قومی سطح پر پروگرام کے پہلے مرحلے کے تحت بایوماس کوجنریشن منصوبوں کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 384.02 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ بایوماس بریکیٹ اور پیلیٹ مینوفیکچرنگ کی گنجائش 1,014.29 ٹن فی گھنٹہ ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں کی مجموعی صلاحیت 381.87 میگاواٹ کے برابر ہے جبکہ ملک بھر میں 34,913 بایوگیس پلانٹس قائم کیے جا چکے ہیں۔حکومت نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ پروگرام کے پہلے مرحلے کا ایک آزاد ادارے کے ذریعے جائزہ لیا گیا ہے تاکہ دیہی آمدنی میں اضافے، فضلے کے مؤثر استعمال اور فصلوں کی باقیات جلانے یا بایوماس کے ضیاع میں کمی پر اس کے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ وزارت کے مطابق اس جائزے کے نتائج پروگرام کے مجموعی تجزیے کا حصہ بنائے گئے ہیں۔










