650 سے زیادہ غیر فعال،68 کروڑ خرچ کے باوجود صفائی نظام متاثر
سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر میں کچرا و گنڈگی چھاٹنے کے شیڈ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے تحت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے باوجود انفراسٹرکچر کے مؤثر استعمال میں سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں، جہاں 2,147 ویسٹ سیگریگیشن شیڈز میں سے 650 سے زائد اب بھی غیر فعال ہیں، جس پر حکومت کو اسمبلی میں وضاحت دینی پڑی۔جموں و کشمیر حکومت نے کہا کہ کہ گزشتہ تین مالی برسوں کے دوران یونین ٹیریٹری میں 2,147 ویسٹ سیگریگیشن شیڈز تعمیر کیے گئے، تاہم ان میں سے صرف 1,491 ہی اس وقت فعال ہیں، جس سے صفائی نظام کی کارکردگی پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔یو این ایس کے مطابق ۔ حکومت کے مطابق ان شیڈز کی تعمیر پر مجموعی طور پر 68.14 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔سال وار تفصیلات کے مطابق 2023-24میں سب سے زیادہ 1,851 شیڈز تعمیر کیے گئے، جن میں سے 1,229 فعال ہیں۔ 2024-25میں 156 شیڈز بنائے گئے جن میں 166 فعال بتائے گئے، جبکہ 2025-26میں 140 شیڈز تعمیر کیے گئے جن میں سے صرف 96 ہی کام کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر 650 سے زائد شیڈز غیر فعال ہیں۔حکومت نے بتایا کہ ویسٹ مینجمنٹ کا عمل پنچایت سطح پر کچرے کی جمع آوری سے شروع ہوتا ہے، جس کے بعد اسے سیگریگیشن شیڈز تک منتقل کر کے گیلا اور خشک کچرے میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ گیلا کچرا کمپوسٹ پٹس کے ذریعے قابل استعمال مصنوعات میں تبدیل کیا جاتا ہے، جبکہ خشک کچرے کو مزید قابلِ ری سائیکل اور ناقابلِ ری سائیکل اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ری سائیکل کے قابل پلاسٹک کو پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ یونٹس کو بھیجا جاتا ہے، جہاں اسے پراسیس کر کے مجاز ری سائیکلرز کے حوالے کیا جاتا ہے۔حکومت نے تسلیم کیا کہ کئی مقامات پر عوامی شکایات سامنے آئی ہیں، جن پر فوری کارروائی کی جاتی ہے، تاہم غیر فعال شیڈز کی مرمت اور بحالی کا عمل جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی نظام کو بہتر بنانے کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق سوچھ بھارت مشن(گرامین) کے تحت انفرادی کمپوسٹ یا سوکیج پٹس کی تعمیر شامل نہیں ہے، اس لیے اس حوالے سے کوئی علیحدہ ڈیٹا دستیاب نہیں۔مزید برآں، محکمہ خزانہ نے پنچایتی راج اداروں کے فنڈز کا 10 فیصد صفائی سے متعلق اثاثوں کی دیکھ بھال کیلئے مختص کیا ہے، تاکہ موجودہ ڈھانچے کو فعال رکھا جا سکے۔یہ صورتحال ایک جانب صفائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو ظاہر کرتی ہے، تو دوسری جانب اس کے مؤثر نفاذ اور نگرانی میں موجود چیلنجز کو بھی اجاگر کرتی ہے۔










