جموں و کشمیر میں 2023 کے دوران لاپتہ افراد کی تعداد 7ہزار سے تجاوز

جموں و کشمیر میں 2023 کے دوران لاپتہ افراد کی تعداد 7ہزار سے تجاوز

4,190 افراد تاحال بازیابندار، بچوں اور لڑکیوں کے کیسوں میں اضافہ تشویشناک// حکومت

سرینگر//یو این ایس// مرکزی حکومت نے راجیہ سبھاکو مطلع کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں سال 2023 کے دوران لاپتہ افراد کے 7,151 معاملات درج کیے گئے، جن میں سے سال کے اختتام تک 4,190 افراد کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔یو این ایس کے مطابق 4 فروری 2026 کو ایوان بالا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ سنجے کمار بندی نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار نیشنل کرائم رئیکارڈ بیوروکی جانب سے مرتب کیے جاتے ہیں اور سالانہ رپورٹ ’’کرائم اِن انڈیا‘‘ میں شائع ہوتے ہیں۔ یہ سوال رندیپ سنگھ سرجے والا کی جانب سے اٹھایا گیا تھا۔ایوان میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال 2023 کے آغاز پر گزشتہ برسوں سے 3,960 افراد لاپتہ اور غیر بازیاب تھے۔ اسی سال 3,304 نئے معاملات درج ہوئے، جس کے بعد مجموعی تعداد 7,151 تک پہنچ گئی۔ سال کے دوران 2,961 افراد کو تلاش یا بازیاب کر لیا گیا، تاہم 4,190 افراد تاحال لاپتہ رہے۔اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران یونین ٹیریٹری میں لاپتہ افراد کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ سال 2020 میں 5,824 افراد لاپتہ رپورٹ ہوئے، جو 2021 میں بڑھ کر 6,486 اور 2022 میں 6,983 ہو گئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 7,151 تک جا پہنچی۔ اسی طرح غیر بازیاب افراد کی تعداد 2020 کے اختتام پر 3,813 تھی جو 2023 کے اختتام تک بڑھ کر 4,190 ہو گئی۔لاپتہ افراد میں بچوں کی تعداد بھی نمایاں ہے۔ سال 2022 میں 18 برس سے کم عمر کے 821 بچے لاپتہ رپورٹ ہوئے، جن میں سے 376 کو بازیاب کیا گیا جبکہ 445 بچے تاحال غیر بازیاب رہے۔ 2021 میں 723 بچوں کے لاپتہ ہونے کے معاملات سامنے آئے تھے، جن میں 483 سال کے اختتام تک غیر بازیاب رہے۔ اعداد و شمار کے مطابق لاپتہ بچوں میں لڑکیوں کا تناسب لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ملک گیر سطح پر بھی لاپتہ افراد کے معاملات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سال 2020 میں 6,70,145 افراد لاپتہ رپورٹ ہوئے تھے، جو 2023 میں بڑھ کر 8,68,559 ہو گئے، جن میں سے 4,07,673 افراد سال کے اختتام تک غیر بازیاب رہے۔ این سی آر بی کے مطابق تازہ ترین دستیاب رپورٹ 2023 سے متعلق ہے۔یو این ایس کے مطابق انسانی اسمگلنگ سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے کہا کہ جرائم کے اعداد و شمار ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کیے جاتے ہیں۔ آئین کے ساتویں شیڈول کے تحت پولیس اور امن و امان ریاستی معاملات ہیں، اس لیے روک تھام، تفتیش اور قانونی کارروائی کی بنیادی ذمہ داری ریاستی حکومتوں اور یو ٹی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ریلیف اور بازآبادکاری کے حوالے سے حکومت نے بتایا کہ وزارتِ خواتین و اطفال کی جانب سے چلڈرن ہیلپ لائن 1098 چوبیس گھنٹے فعال ہے جو لاپتہ اور کمزور بچوں کی مدد فراہم کرتی ہے، جبکہ بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر ریلوے چائلڈ لائن بھی کام کر رہی ہے۔ مشن شکتی کے تحت ’شکتی سدن‘ اسکیم متاثرہ خواتین کو مربوط امداد فراہم کرتی ہے، جبکہ اسمگل شدہ بچوں کو مشن وتسلیا کے تحت چلنے والے چائلڈ کیئر اداروں میں سہارا دیا جاتا ہے۔متاثرین کو معاوضہ فوجداری ضابطہ کی دفعہ 357A (جو اب بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کی دفعہ 396 ہے) کے تحت ریاستی و یو ٹی وکٹم کمپنسیشن اسکیموں کے ذریعے دیا جاتا ہے۔نیشنل لیگل سروس اتھارٹی کے مطابق معاوضے کی مجموعی رقم 2021-22 میں 221.87 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 484.67 کروڑ روپے ہو گئی، جبکہ 2025-26 میں 25 جولائی تک 154.02 کروڑ روپے بطور معاوضہ ادا کیے جا چکے ہیں۔