Kishan Reddy

جموں و کشمیر میں پہلی بار شفاف لائم اسٹون بلاک نیلامی کا آغاز

وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ شاہ چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر معدنی ریاست بنے: مرکزی وزیر ریڈی

سرینگر/وی او آئی// مرکزی وزیر برائے کوئلہ و کان کنی جی.کشن ریڈی نے پیر کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر کو ایک “معدنی ریاست” میں تبدیل کیا جائے۔ ریڈی نے جموں میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں پہلی بار لائم اسٹون معدنی بلاکس کی ای-نیلامی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ریاست میں زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا، معدنی سرگرمیوں کو بڑھانا اور صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ ریڈی نے مزید کہا کہ یہ نیلامی خطے کے لیے ایک نئے دور کی شروعات ہے، جس سے مقامی عوام کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے اور معدنی وسائل کو شفاف طریقے سے استعمال میں لایا جائے گا۔ وائس ا?ف انڈیا کے مطابق مرکزی حکومت نے پیر کو جموں و کشمیر میں پہلی بار لائم اسٹون معدنی بلاکس کی شفاف نیلامی کا ا?غاز کیا، جسے خطے کو معدنی وسائل سے مالا مال بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام وزارت کوئلہ و کان کنی نے جموں و کشمیر انتظامیہ کے اشتراک سے شروع کیا ہے، جس کا مقصد روزگار کے مواقع، ا?مدنی میں اضافہ اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ مرکزی وزیر کوئلہ و کان کنی جی. کشن ریڈی نے افتتاحی تقریب کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مرکز معدنی ترقی کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کا وڑن ہے کہ جموں و کشمیر معدنی خوشحالی سے مستفید ہو اور کان کنی کی سرگرمیاں مقامی لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بنیں۔ ریڈی نے کہا کہ کان کنی کے شعبے میں بڑے اصلاحات 2014 کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد متعارف کرائے گئے، اور اب پورے ملک میں لائم اسٹون کی کان کنی شفاف نیلامی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی 95 فیصد سے زیادہ ریاستوں نے اس فریم ورک کو قبول کر کے نافذ کیا ہے۔ جموں و کشمیر میں یہ نیلامی 2015 میں مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ میں ترمیم کے بعد پہلی بار کی جا رہی ہے۔ اس کے تحت سات لائم اسٹون بلاکس کی نشاندہی کی گئی ہے جو تقریباً 314 ہیکٹر رقبے پر محیط ہیں۔ یہ بلاکس اننت ناگ، راجوری اور پونچھ میں واقع ہیں اور انہیں سیمنٹ سازی، تعمیراتی مواد اور دیگر صنعتی استعمال کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدام خطے میں معدنی ترقی کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت کو سہارا دینے اور صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی سمت ایک سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔