دانشور ، کمیونٹی کے ارکان اور مذہبی رہنماؤں کا اجتماعی کردار ہے ۔ سکینہ ایتو
جموں//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ جموں و کشمیر بھر میں منشیات کے استعمال کے خطرے سے نمٹنے میں قانون ساز ، بزرگ شہری ، دانشور ، کمیونٹی کے ارکان اور مذہبی رہنماؤں کا اجتماعی کردار ہے ۔ وزیرموصوفہ نے یہ بات اسمبلی میں قانون سازوں پیر زادہ فاروق احمد شاہ ، سرجیت سنگھ سلاتھیہ ، علی محمد ساگر ( جن کی طرف سے قانون ساز مبارک گُل نے سوال اٹھایا ) ، کے جواب میں بتائی ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ محکمہ نے مختلف اقدامات جیسے میڈیکل دوکانوں میں لازمی سی سی ٹی وی کی تنصیب اور کمپیوٹرائیزڈ بلنگ ، گاؤں کی سطح پر کاؤنسلرز کی تربیت کے ساتھ ساتھ اسکولوں اور کالجوں کے اندر اور آس پاس سی سی ٹی وی کی تنصیب کئے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسکولوں میں اساتذہ کو تربیت دی جا رہی ہے تا کہ وہ منشیات کی لت کے ابتدائی آثار دکھانے والے طلبہ کو کاؤنسلنگ دیں ۔ وزیرسکینہ اِیتو نے اسمبلی کو بتایا کہ جموں و کشمیر میں صحت اور طبی تعلیم کے محکمہ کے تحت اور نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت منشیات سے نجات کی خدمات کو مضبوط کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر ڈویژن کے تمام اضلاع اور جموں ڈویژن کے 9 اضلاع میں ایڈکشن ٹریٹمنٹ فیسیلٹیز ( اے ٹی ایف ) فعال ہیں ، جن میں اختصاصی ان ڈور مریض ( آئی پی ڈی ) بیڈز اور آؤٹ ڈور مریض ( او پی ڈی ) خدمات دستیاب ہیں تا کہ جامع علاج اور بحالی یقینی بنائی جا سکے ۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبہ کشمیر میں اے ٹی ایف سکمز ، جی ایم سی بمنہ سری نگر ، جی ایم سی اننت ناگ ، جی ایم سی بارہمولہ ، جی ایم سی ہندواڑہ ، ضلعی ہسپتال کولگام ، ضلعی ہسپتال شوپیاں ، ضلعی ہسپتال پلوامہ ، ضلعی ہسپتال بڈگام ، ضلعی ہسپتال گاندر بل اور ضلعی ہسپتال بانڈی پورہ میں فعال ہیں ۔ صوبہ جموں میں جی ایم سی ڈوڈہ ، جی ایم سی جموں ، جی ایم سی کٹھوعہ ، جی ایم سی راجوری ، جی ایم سی اودھمپور ، ضلعی ہسپتال کشتواڑ ، ضلعی ہسپتال پونچھ ، ضلعی ہسپتال رام بن ، ضلعی ہسپتال ریاسی اور ڈی ایچ سانبہ میں فعال ہیں ۔ وزیر صحت نے یہ بھی کہا کہ تمام اضلاع میں او پی ڈی خدمات دستیاب ہیں ، تمام جی ایم سیز میں آئی پی ڈی خدمات ہیں اور نفسیاتی ماہرین بھی دستیاب ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نشہ چھڑانے کی کونسلنگ اور علاج کی خدمات کو مضبوط بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جن میں دیہی اور کمزور علاقوں میں ایڈکشن ٹریٹمنٹ فیسیلٹیز ( اے ٹی ایفز) میں آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ ( او پی ڈی ) پر مبنی کونسلنگ خدمات کو مضبوط کرنا ، ضروری ادویات کی دستیابی کو بہتر بنانا ، فالو اپ اور آؤٹ ریچ پروگراموں کو بڑھانا شامل ہے ۔ وزیر صحت و طبی تعلیم نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں اے ٹی ایفز میں 32,517 مریض رجسٹرڈ ہیں ، جن میں سے 16,759 صوبہ کشمیر میں اور 15758 صوبہ جموں میں ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضلع پلوامہ ( کشمیر ڈویژن ) اور ضلع سانبہ ( جموں ڈویژن ) میں ڈرگ ڈی ایڈکش اینڈ ری ہیبلی ٹیشن سینٹر قائم کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے ۔ البتہ ضلع پلوامہ کے گاؤں بجوانی ، ترال میں ایک ڈرگ ڈی ایڈکشن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن سینٹر فعال ہے جو پورے ضلع کے مریضوں کو خدمات فراہم کر رہا ہے ۔ وزیر صحت نے یہ بھی کہا کہ ضلع ہسپتال سانبہ میں فروری 2024 سے ایک ایڈکشن ٹریٹمنٹ فیسیلٹی قائم کی گئی ہے جو این ڈی ڈی ٹی سی ( اے آئی آئی ایم ایس نئی دہلی ) کی جانب سے ایم او ایس جے اِی کے تحت سپانسر کی گئی ہے ۔ اُنہوں نے کہا، ’’ یہ مرکز ایک ماہر نفسیات اور دیگر تربیت یافتہ عملے سے لیس ہے جو علاج اور بحالی کی خدمات فراہم کرتا ہے ۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مرکز فی الحال او پی ڈی کی بنیاد پر کام کر رہا ہے اور خدمات جیسے نفسیات کے ذریعے او پی ڈی ، کونسلنگ ، ایڈکشن ٹریٹمنٹ فیسیلٹی اور مریضوں کو ڈی۔ ایڈکشن کی ادویات مفت فراہم کی جا رہی ہیں ۔










