130 کروڑ روپے کی لاگت سے 59 کے جی بی وِی ایس اور 23 گرلز ہوسٹل کی تعمیر مکمل
سری نگر//جموں و کشمیر حکومت نے نظام میں معیار، مساوات، رَسائی،جواب دہی اور استطاعت کو یقینی بنانے کے فیصلوں سے تعلیمی شعبے میں بڑی تبدیلیاں متعارف کی ہیں۔محکمہ سکولی تعلیم نے مختلف جدید نئے منصوبوں اور کاموں کو شروع کرنے اورموجودہ نصاب میں قابل ذکر بہتری کے تصور کرنے والی تمام سکیموں اور منصوبوں کو مؤثر طریقے سے عملا کر کے اَب تک اہم پیش رفت حاصل کی ہے۔پروجیکٹ ڈائریکٹر سماگراہ شکھشا دیپ راج نے کہا کہ جموںوکشمیر یوٹی کے سکولوں میں بنیادی ڈھانچے کی عمارت میں زبردست اَپ گریڈیشن اور بہتری دیکھنے میں آئی ہے ۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سماگراہ شکھشاکے تحت تقریباً 1,164 تعمیراتی جن میں سکولی عمارتیں ،اِضافی اقامتی سہولیات، بیت الخلاء ، بائونڈری والوں اور ٹیچرس کوارٹرس شامل ہیں تقریباً 95کروڑ روپے کے مالیاتی اخراجات سے مکمل ہوچکے ہیں۔اِس کے علاوہ یوٹی / ضلع کیپکس بجٹ اور جے کے آئی ڈی ایف کے تحت دیگر تعمیراتی کاموں کو بھی مکمل کیا جاچکا ہے۔معاشرے کے پسماندہ طبقوں کی لڑکیوں کو مالی اِمداد سے معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لئے 59 کستوربا گاندھی بالیکا ودھیالیہ ( کے وِی بی وِی )کے رہائشی سکول اور 23 گرلز ہوسٹل کی گذشتہ مالی برس میں 130کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوئے تھے ۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے گذشتہ برس میں محکمہ سکولی تعلیم کے 40پروجیکٹوں کا اِفتتاح کیا۔مرکزی اور جموںوکشمیر حکومتوں نے بہت سے گیم چینجنگ سکیمیں شروع کی ہیںجن کا مقصد قبائلی آبادی کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے اور ان کی معاشی اور تعلیمی بااِختیار یت پر زور دینا ہے ۔حکومت کے اہم اہداف جنہیں مرحلہ وار پورا کیا جائے گا۔جموںوکشمیر یوٹی میںسکولی تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو اَپ گریڈ کرنے میں ایک بڑی تبدیلی لانے کے لئے زائداَز 4,200 پروجیکٹس زیر تکمیل ہیں۔پروجیکٹ ڈائریکٹر سماگراہ شکھشا دیپ راج نے کہا کہ آنے والے برسوں میں زیادہ اِندراج والے سکولوں کو سمارٹ اورماڈل سکول کے طور پر تیا ر کیا جائے گا جو تمام بنیادی سہولیات سے آراستہ ہوں گے ۔اُنہوں نے کہا،’’ بنیادی ڈھانچے اور کھیل سہولیات میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ مزید یہ کہ اَساتذہ کو ان کے تعلیمی معیار کو بڑھانے کے لئے خصوصی تربیت دی جائے گی۔‘‘
جموںوکشمیر حکومت نے تمام 23,112 سرکاری سکولوں میں پانی ، صفائی ستھرائی او ربجلی فراہم کرنے کا ایک اہم اقدام شروع کیا ہے ۔ یہ ان سکولوں کی بنیادی ضروریات میں سے ایک تھی جو یکے بعد دیگرے حکومتوں کی طرف سے سست رفتاری سے اَنجام دی جارہی تھی ۔ وزارتِ جل شکتی نے 2؍ اکتوبر 2020ء کو ملک بھر کے تمام سکولوں اور آنگن واڑی سینٹروں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے نظرئیے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت پر 100 روزہ مہم کا آغاز کیا تھا۔ایک آفیشل نے کہا ،’’ جموں و کشمیریوٹی نے مہم کی مدت کے اندر ان تمام اِداروں میں محفوظ پانی فراہم کر کے وزیر اعظم کے نظرئیے کو پورا کیاتاکہ بچوں کو پینے، ہاتھ دھونے اور بیت الخلا ء میں استعمال کے لئے پینے کے پائپ کے پانی تک رسائی حاصل ہو۔‘‘ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ٹویٹر پر ترقی کا اِشتراک کرنے کے لئے کہا،’’ مودی جی کی قیادت میں جموںوکشمیر اَمن اور خوشحالی کا مترادف بن رہا ہے ۔ میں وزیر اعظم نریندر مودی جی اور گجیندر سنگھ شیخاوت جی کو جموںوکشمیر کے تمام سکولوں او رآنگن واڑی سینٹروں میں نل سے پینے کا صاف پانی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ ‘‘ دریں اثنا،سکولوں میں ماحول دوست سرگرمیوں کے لئے 4,500 ایکو کلب بنائے گئے ہیں جن میں درخت لگانے کے پروگرام، بیداری پروگرام جیسے کوئز، مضمون نویسی، مصوری مقابلے، ریلیاں، نکڑ ناٹک وغیرہ مختلف ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے منعقد کئے گئے ہیں اور مختلف ماحولیاتی مسائل کے بارے میں ویسٹ میٹریل کے دوبارہ استعمال اور ویسٹ سے مصنوعات کی تیاری کے بارے میں بیداری پیدا کرنا شامل ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیت کو بہتر بنانے ، ان کی شخصیت کو نکھارنے اور مستقبل کے چیلنجوں کی خاطر تیار کرنے کے لئے جموںوکشمیر یوٹی کی ہر پنچایت میں یوتھ کلب بنائے جارہے ہیں ۔ ایک آفیشل نے کہاکہ کم از کم پانچ ممبران والے یوتھ کلب قائم کئے جارہے ہیں جنہیں پنچایت کی ضروریات اور ضروریات کے مطابق مشہور پنچایتیں بنانے کے لئے مختلف سکیموں کے تحت مراعات فراہم کی جائیں گی۔










