سونہ وار سے گلمرگ تک زمین الاٹمنٹ،سرکاری آمدنی کی تفصیلات منظرِ عام پر
سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر حکومت نے یونین ٹیریٹری کے اہم شہری اور سیاحتی مقامات پر لیز پر دی گئی سرکاری اراضی اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تفصیلات ظاہر کی ہیں۔ ان انکشافات میں سری نگر، پہلگام، گلمرگ، کٹرا اورپٹنی ٹاپ جیسے نمایاں مقامات شامل ہیں۔ یہ اراضی لینڈ گرانٹس ایکٹ اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق الاٹ کی گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سری نگر کے علاقے سونہ وار میں 47 کنال اور 10 مرلہ اراضی لیز پر دی گئی ہے، جس سے سالانہ 1,110 روپے آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔ لال چوک میں 198 کنال اور 5 مرلہ زمین لیز پر دی گئی، جہاں سے سالانہ 89 ہزار روپے کی آمدنی درج کی گئی ہے۔ ڈل گیٹ میں 1 کنال اور 3 مرلہ اراضی سے 510 روپے سالانہ آمدنی ہو رہی ہے، جبکہ صنعت نگر میں 246 کنال اور 18 مرلہ اراضی درج تو ہے، تاہم وہاں سے آمدنی کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ سیاحتی مقام پہلگام میں 63 کنال اور 18 مرلہ اراضی مختلف مستفیدین کو لیز پر دی گئی ہے، جبکہ 79 کنال اور 8 مرلہ زمین تاحال موقع پر حکومتی تحویل میں بتائی گئی ہے۔ گلمرگ میں 294 کنال اور 5 مرلہ اراضی ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور دیگر مستفیدین کے حق میں لیز پر دی گئی ہے۔جموں خطے میں واقع کٹرا میں 5 کنال اور 10 مرلہ اراضی لیز پر دی گئی ہے، جس سے سالانہ 27.20 لاکھ روپے کی آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔ پٹنی ٹاپ میں 160 کنال اراضی لیز پر دی گئی، جہاں سے 54.47 لاکھ روپے سالانہ آمدنی درج کی گئی ہے، جبکہ سورنسَر میں کسی بھی قسم کی لیز شدہ اراضی کی اطلاع نہیں دی گئی۔حکومت کا کہنا ہے کہ تمام لیز معاہدے لینڈ گرانٹس ایکٹ اور متعلقہ قواعد کے مطابق انجام دیے گئے ہیں۔ ان تفصیلات کے منظرِ عام پر آنے سے جموں و کشمیر کے اہم تجارتی اور سیاحتی مراکز میں سرکاری اراضی کے استعمال اور اس سے ہونے والی آمدنی کی ایک واضح تصویر سامنے آئی ہے، جس پر آئندہ دنوں میں مزید عوامی اور پالیسی سطح پر بحث متوقع ہے۔










