جموں و کشمیر میں قابلِ تجدید توانائی کا دائرہ وسیع

جموں و کشمیر میں قابلِ تجدید توانائی کا دائرہ وسیع

35.25 میگاواٹ اسمال ہائیڈرو بجلی منصوبے مکمل، 7,425 سرکاری عمارتوں میں سولر نصب

سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر حکومت نے قانون ساز اسمبلی کو بتایا ہے کہ یونین ٹیریٹری میں آزاد بجلی پیدا کنندہ ماڈل کے تحت 35.25 میگاواٹ کی اسمال ہائیڈرو بجلی صلاحیت کامیابی کے ساتھ کمیشن کی جا چکی ہے، جبکہ 7,425 سرکاری عمارتوں پر 76.17 میگاواٹ کی روف ٹاپ سولر صلاحیت نصب کی گئی ہے، جو خطے میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں نمایاں پیش رفت ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ تفصیلات گرانٹس کے مطالبات پر بحث کے دوران پیش کی گئیں، جہاں سائنس و ٹیکنالوجی محکمہ نے جموں کشمیر انرجی دیولپمنٹ ایجنسی (جاکیڈا) کے ذریعے حاصل کردہ پیش رفت سے ایوان کو آگاہ کیا۔ جاکیڈا جموں و کشمیر میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے نوڈل ایجنسی ہے۔حکومت نے بتایا کہ آئی پی پی موڈ کے تحت سات اسمال ہائیڈرو پاور منصوبے، مجموعی طور پر 35.25 میگاواٹ صلاحیت کے ساتھ، مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ موجودہ مالی سال کے دوران مزید دو منصوبے (4.65 میگاواٹ) کمیشن کیے جا رہے ہیں۔محکمہ کے مطابق، 60 ہائیڈرو پاور منصوبہ جاتی مقامات، جن کی مجموعی صلاحیت 129.80 میگاواٹ ہے، یونین ٹیریٹری کے دور دراز علاقوں میں مختلف مراحل میں زیرِ تکمیل ہیں۔ اس کے علاوہ 2 سے 10 میگاواٹ کے 61 ڈیٹیلڈ پروجیکٹ رپورٹس بھی حتمی شکل دی گئی ہے، جن میں مجموعی طور پر 340 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اور انہیں مرحلہ وار آئی پی پی موڈ کے تحت ترقی دی جائے گی۔حکومت نے کہا کہ ہائیڈرو منصوبوں کی تعمیر کے دوران بڑی تعداد میں ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کو روزگار فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ ہر منصوبے کی تکمیل کے بعد 15 سے 20 براہِ راست ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں، جن میں سول، الیکٹریکل اور مکینیکل انجینئرز، ٹیکنیشنز اور معاون عملہ شامل ہوتا ہے، اس کے علاوہ ملحقہ علاقوں میں بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔روف ٹاپ سولر اقدام کے تحت جاکیڈا نے 7,425 سرکاری عمارتوں کو 76.17 میگاواٹ مجموعی صلاحیت کے ساتھ سولرائز کیا ہے، جبکہ تقریباً 22 ہزار ممکنہ سرکاری عمارتوں کو سولرائز کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مزید 1,200 عمارتوں پر سولر تنصیب کا کام جاری ہے۔ یہ منصوبہ یو ٹی کیپیٹل اخراجات اور ریسکو ماڈلز کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد توانائی میں خود کفالت اور روایتی بجلی پر انحصار کم کرنا ہے۔محکمہ نے بتایا کہ گھریلو اور ادارہ جاتی شعبے میں، وزارتِ نئی و قابلِ تجدید توانائی کی سابقہ اسکیموں کے تحت 34 میگاواٹ روف ٹاپ سولر صلاحیت پہلے ہی نصب کی جا چکی ہے۔وزیر اعظم مفت بجلی یوجنا کے تحت، 19 فروری 2026 تک دستیاب پورٹل ڈیٹا کے مطابق، جموں و کشمیر میں 23,598 گھروں پر روف ٹاپ سولر سسٹمز نصب کیے گئے ہیں، جن کی مجموعی صلاحیت 84.41 میگاواٹ ہے۔ حکومت نے بتایا کہ مستفیدین کو براہِ راست فائدہ منتقلی کے ذریعے 172 کروڑ روپے کی سبسڈی جاری کی جا چکی ہے۔اس اسکیم کے تحت پہاڑی علاقوں جیسے جموں و کشمیر میں 3 کلو واٹ سسٹم پر 85,800 روپے تک مرکزی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جبکہ یو ٹی حکومت کی جانب سے 3 کلو واٹ تک فی کلو واٹ 3,000 روپے کی اضافی سبسڈی بھی دی جا رہی ہے۔ حکومت نے بتایا کہ 83,500 گھریلو صارفین کو اس اسکیم کے دائرے میں لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔اسی طرح وزیر اعظم،خُسم کے کمپوننٹ-بی کے تحت جموں و کشمیر کے لیے 5,000 سولر زرعی پمپ منظور کیے گئے، جن میں سے 4,104 پمپ مختلف اضلاع میں نصب کیے جا چکے ہیں۔ اس اسکیم میں 50 فیصد مرکزی، 30 فیصد یو ٹی سبسڈی جبکہ 20 فیصد حصہ کسان ادا کرتے ہیں۔حکومت نے مزید بتایا کہ گزشتہ دو مالی برسوں کے دوران قبائلی اور دور دراز علاقوں میں 3,549 سولر ہوم لائٹس اور 17,124 بایوماس کوک اسٹوز تقسیم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اسمبلی حلقوں اور مذہبی مقامات پر سولر اسٹریٹ لائٹس نصب کی جا رہی ہیں، جبکہ تین مقامات پر پائلٹ بنیادوں پر سولر ای وی چارجنگ اسٹیشن بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔محکمہ کے مطابق، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ اندازے کے مطابق ہر سولر منصوبے سے تیاری سے لے کر تنصیب تک اوسطاً 40 ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں، جبکہ اس وقت یو ٹی میں 800 سے زائد کمپنیاں روف ٹاپ سولر کے فروغ سے وابستہ ہیں، جن میں کام کرنے والے نوجوان زیادہ تر مقامی باشندے ہیں۔حکومت نے کہا کہ ہائیڈرو اور سولر توانائی کی توسیع کا مقصد توانائی تحفظ کو مضبوط بنانا، سبز ترقی کو فروغ دینا اور جموں و کشمیر کے شہری و دیہی دونوں علاقوں میں پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔