سکیورٹی ایجنسیوں کو دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے فنڈس کے غلط استعمال کا خدشہ
سرینگر//یو این ایس / / مرکزی سکیورٹی ایجنسیوں نے جموں و کشمیر میں مبینہ طور پر چلائے جا رہے فرضی لین دین(میول اکاؤنٹس) کے ایک وسیع نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے، جسے عالمی آن لائن فراڈ نیٹ ورکس کی مالی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کو اندیشہ ہے کہ ان اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل ہونے والی رقوم کو علیحدگی پسند اور ملک مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران خطے میں سرگرم 8 ہزار سے زائد میول اکاؤنٹس کی نشاندہی کر کے انہیں منجمد کیا گیا ہے، جس سے منی لانڈرنگ کے ایک منظم اور پیچیدہ نظام کا انکشاف ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اکاؤنٹس سائبر جرائم کی زنجیر کی “کمزور مگر نہایت اہم کڑی” ہوتے ہیں کیونکہ انہی کے ذریعے لوٹی گئی رقم کو ناقابلِ سراغ کرپٹو کرنسی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔یو این ایس کے مطابق مرکزی ایجنسیوں نے جموں کشمیر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ بینکوں کے ساتھ مشاورت کر کے ایسے اکاؤنٹس کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پائیں اور ان درمیانی کرداروں، جنہیں عرفِ عام میں “میولرز” کہا جاتا ہے، کی نشاندہی کریں جو ان مالی دھوکہ دہیوں کو سہولت فراہم کرتے ہیں۔حکام کا شبہ ہے کہ ’قومی تحقیقاتی ایجنسی‘کی جانب سے 2017 میں غیر قانونی رقوم کے بہاؤ کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد ملک مخالف عناصر نے “ڈیجیٹل حوالہ” کا نیا ماڈل اختیار کیا ہے، جس میں میول اکاؤنٹ ہولڈرز کو دی جانے والی کمیشن کی رقم کو ملک دشمن سرگرمیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔حکام کے مطابق’میولر‘ عام طور پر وہ شخص نہیں ہوتا جو متاثرین سے براہِ راست رابطہ کرے یا جعلی لنکس بھیجے، بلکہ اس کا کردار خفیہ مگر نہایت اہم ہوتا ہے۔ وہ دھوکہ بازوں کو درجنوں بینک اکاؤنٹس فراہم کرتا ہے جن کے ذریعے لوٹی گئی رقم منتقل کی جاتی ہے تاکہ اصل مجرم کی شناخت ظاہر نہ ہو۔زیادہ تر یہ اکاؤنٹس عام شہریوں کے نام پر کھلوائے جاتے ہیں جنہیں “آسان کمیشن” اور کم خطرے کا لالچ دے کر قائل کیا جاتا ہے۔ انہیں اپنے بینک اکاؤنٹس، نیٹ بینکنگ اسناد اور دیگر تفصیلات مکمل طور پر حوالے کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے، یہ کہہ کر کہ اکاؤنٹ کو عارضی طور پر “پارکنگ اکاؤنٹ” کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ایک فراڈ نیٹ ورک کو بیک وقت 10 سے 30 میول اکاؤنٹس فراہم کیے جاتے ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں فرضی کمپنیوں کے نام پر اکاؤنٹس کھول کر ایک ہی دن میں 40 لاکھ روپے تک کی خطیر رقم منتقل کی جاتی ہے تاکہ فوری طور پر شک نہ ہو۔ لوٹی گئی رقم کو مختلف اکاؤنٹس میں بار بار منتقل کر کے چھوٹی چھوٹی رقوم میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ سراغ رسانی مشکل ہو جائے۔مرکزی سکیورٹی ایجنسیوں کی ایک تفصیلی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چین، ملائیشیا، میانمار اور کمبوڈیا جیسے ممالک میں موجود عناصر جموں و کشمیر کے بعض افراد کو نجی کرپٹو والیٹس بنانے کی ہدایات دیتے ہیں۔ یہ والیٹس عموماً ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (VPN) کے ذریعے تیار کیے جاتے ہیں اور ان کے لیے ’کے وائی سی‘ یا شناختی تصدیق درکار نہیں ہوتی۔اسی تناظر میں جموں کشمیر پولیس نے وادی میں وی پی این کے استعمال کو معطل کر دیا ہے، کیونکہ حکام کے مطابق وی پی این دہشت گردوں اور علیحدگی پسند عناصر کے لیے شناخت سے بچنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا تھا۔ایک سینئر افسر کے مطابق، “یہ پورا فراڈ نظام انہی اکاؤنٹس پر منحصر ہے۔ اگر رقم وصول کرنے کا ذریعہ نہ ہو تو دھوکہ دہی ابتدا ہی میں ناکام ہو جاتی ہے۔ اپنے اکاؤنٹس کرائے پر دینے والے محض حالات کے شکار نہیں بلکہ اس جرم کا عملی حصہ ہیں۔”










