جموں و کشمیر میں غیر محفوظ غذائی نمونوں میں اضافہ

نفاذی اقدامات پر سوالات، لیبارٹری ڈھانچے کے اعداد و شمار منظر عام پر

سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں غذائی ملاوٹ اور نفاذی نظام سے متعلق معاملات زیر بحث آئے جب حکومت نے فوڈ سیمپلنگ، عدالتی کارروائیوں، لیبارٹری سہولیات اور سرحدی نگرانی کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار پیش کیے۔یو این ایس کے مطابق سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023-24 کے دوران مجموعی طور پر 9,046 غذائی نمونے حاصل کیے گئے جن میں سے 34 کو غیر محفوظ قرار دیا گیا۔ 2024-25میں 7,251 نمونے لیے گئے اور 33 غیر محفوظ پائے گئے۔ تاہم 2025-26میں (31 جنوری 2026 تک) نمونوں کی تعداد کم ہو کر 5,682 رہ گئی، مگر غیر محفوظ قرار دیے گئے نمونوں کی تعداد بڑھ کر 130 ہو گئی۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں مجموعی سیمپلنگ میں کمی آئی ہے، جبکہ موجودہ مالی سال میں غیر محفوظ نمونوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے بازار میں ملاوٹ شدہ اشیائے خور و نوش کی موجودگی اور روک تھام کے نظام کی مؤثریت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔نفاذی کارروائیوں کے حوالے سے حکومت نے بتایا کہ 2-23-24میں 1,467 مقدمات درج کیے گئے، 2024-25 میں 994 اور 2025-26(31 جنوری تک) 967 مقدمات قائم ہوئے۔ سزا کے ساتھ نمٹائے گئے مقدمات کی تعداد بالترتیب 1,682، 1,296 اور 1,528 بتائی گئی، جبکہ سزا کی شرح 114.65 فیصد، 130.38 فیصد اور 158.01 فیصد رہی۔ ان اعداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیر التوا مقدمات بھی ان برسوں میں نمٹائے گئے۔لیبارٹری ڈھانچے کے بارے میں بتایا گیا کہ یونین ٹیریٹری میں دو فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریاں این اے بی ایل سے منظور شدہ اور ایف ایس ایس اے آئی سے نوٹیفائیڈ ہیں، جن میں ایک جموں اور ایک کشمیر ڈویڑن میں قائم ہے۔جموں لیبارٹری اس وقت 27 پیرا میٹرز کے لیے منظور شدہ ہے جبکہ مزید 327 پیرا میٹرز کی منظوری زیر التوا ہے۔ سری نگر لیبارٹری 354 پیرا میٹرز کے لیے نوٹیفائیڈ ہے، جن میں اناج اور اناج مصنوعات، مصالحہ جات، دودھ اور دودھ سے بنی اشیا، چکنائیاں و تیل، پھل و سبزیاں اور بھاری دھاتوں سمیت دیگر معیار و سلامتی کے پیرا میٹرز شامل ہیں۔سرحدی نگرانی کے بارے میں حکومت نے کہا کہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے تحت بلاک سطح پر فوڈ سیفٹی افسران تعینات ہیں۔ اس وقت جموں و کشمیر کے 101 بلاکس بشمول سرحدی علاقوں میں افسران یا تو مستقل تعیناتی پر یا اضافی چارج کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں۔اگرچہ سرکاری جواب میں ڈھانچے اور کوریج پر زور دیا گیا، تاہم غیر محفوظ نمونوں میں اضافہ اور سیمپلنگ میں کمی نے خطے میں غذائی ملاوٹ کی روک تھام اور نگرانی کے نظام کی افادیت پر بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔