جموں و کشمیر میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف کریک ڈاؤن

2برس میں 13 ہزار سے زائد گاڑیاں ضبط,446 ایف آئی آر درج

سرینگر//یو این ایس/ جموں و کشمیر میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف جاری سخت کارروائیوں کے دوران گزشتہ دو برسوں میں 13,692 گاڑیاں ضبط کی گئی ہیں جبکہ 446 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ کارروائیاں مختلف اضلاع میں تیزی کے ساتھ جاری ہیں۔تفصیلات کے مطابق مالی سال 2024-25کے دوران 6,219 گاڑیاں ضبط کی گئیں جبکہ 2025-26(دسمبر 2025 تک) میں 7,473 گاڑیاں تحویل میں لی گئیں، جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔یو این ایس کے مطابق قانونی کارروائی کے تحت 2024-25میں 212 ایف آئی آر درج کی گئیں جبکہ 2025-26میں دسمبر تک 234 مقدمات درج کیے گئے، جس سے نگرانی اور عمل درآمد میں مزید سختی کا عندیہ ملتا ہے۔ضلع وار اعداد و شمار کے مطابق 2025-26میں کوپواڑہ سرفہرست رہا جہاں 859 گاڑیاں ضبط کی گئیں، اس کے بعد کٹھوعہ (796) اور بارہمولہ (701) کا نمبر آتا ہے۔اسی طرح 2024-25میں جموں ضلع 880 ضبط شدہ گاڑیوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جبکہ سانبہ (527) اور بڈگام (475) بھی نمایاں اضلاع میں شامل رہے۔ایف آئی آر کے حوالے سے 2025-26میں بڈگام سب سے آگے رہا جہاں 51 مقدمات درج ہوئے، اس کے بعد کوپواڑہ (46) اور بارہمولہ (32) شامل ہیں۔ 2024-25میں بھی بڈگام 48 ایف آئی آر کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ گاندربل (44) اور بانڈی پورہ (30) میں بھی بڑی تعداد میں کیس درج کیے گئے۔حکام کے مطابق ضبطیوں اور ایف آئی آر میں اضافے کی بنیادی وجہ غیر قانونی کان کنی کے خلاف مہم میں تیزی، دریا کناروں کی سخت نگرانی اور متعلقہ ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل ہے۔