کئی لوگ پولیس گرفت میں، سابق ویزر بابو سنگھ کو بہت جلد گرفتار کیا جائیگا:دلباغ سنگھ
سری نگر//جموںو کشمیر پولیس کے ڈائر ایکٹر جنرل پولیس( ڈی جی پی ) دلباغ سنگھ نے بتایا حال میں ضبط شدہ حوالہ رقم کی تحقیقات بڑے پیمانے پر جاری ہے جس سلسلے میں تاحال کئی افراد کو گرفتار کیا گیا یے جبکہ سابق وزیر بابو سنگھ کو بہت جلد گرفتار کیا جائے گا ۔انہوں نے بتایا پوچھ گچھ کے بعد حوالا منی ریکیٹ کی مکمل تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں گی۔انہوں نے کہا پاکستان اور اسکی ایجنسیاں ملی ٹنسی کے ماحول کو زندہ رکھنے کے لئے سوشل میڈیا کو استعمال کر رہا ہے پاکستان اور اسکی ایجنسیاں کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں و کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے سنیچر کے روز بتایا جموں و کشمیر کے سابق وزیر بابو سنگھ جو ابھی تک مفرور ہیں اور ان کا جلد پتہ لگایا جائے گا اور پوچھ گچھ کے بعد حوالا منی ریکیٹ کی مکمل تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں گی۔ اس کیس سے بابو سنگھ کا تعلق اس وقت سامنے آیا جب جموں و کشمیر پولیس نے جمعرات کو ایک 64 سالہ شخص کو گرفتار کیا اور تقریباً 7 لاکھ روپے مالیت کی حوالا نقدی ضبط کی۔ پولیس نے کہا کہ حوالا کی رقم کا مقصد مبینہ طور پر جموں ضلع میں شورش کی حمایت کرنا تھا۔ پولیس نے حال ہی میں اننت ناگ کے سید پورہ سے محمد شریف شاہ (64) کو گاندھی نگر علاقہ سے گرفتار کیا ہے اور اس سے رقم ضبط کی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ شاہ نے انکشاف کیا کہ انہیں جتندر سنگھ عرف بابو سنگھ، جو نیچرمینکائنڈ فرینڈلی گلوبل پارٹی کے چیئرمین اور جموں و کشمیر میں پی ڈی پی،کانگریس مخلوط حکومت میں سابق وزیر ہیں، نے سری نگر میں عمر نامی شخص سے رقم وصول کرنے کا کام سونپا ہے ۔انہوں نے کہا جس طرح سے اس رقم کے کنکنشن مل رہی ہیں اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کو غیر قانونی کام کے لئے استعمال کرنا تھادلباباغ سنگھ نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایاسالانہ امر ناتھ یاترا کے حوالے سے اب کی بار بڑی تعداد میں لوگ اب کی بار یہاں آئیں گے ۔انہوں نے بتایا کووڈ کا تقریباً ہمیں جات ملی ہے ۔اور دو سال کے بعد یہاں عقیدت مند بڑی تعداد میں آئیں گے جس کے لئے حفاظت کے لئے بہتر انتظامات کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا: ’پاکستان اور پاکستان نواز ایجنسیاں ملی ٹنسی کے ماحول کو زندہ رکھنے کے لئے سوشل میڈیا کو استعمال کر رہے ہیں، اس پر چوبیس گھنٹے نظر گذر رکھی جا رہی ہے اور جب بھی کوئی قابل اعرتاض چیز نوٹس کی جاتی ہے تو اس کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جاتی ہے‘۔ان کا کہنا تھا: ’خفیہ طریقے سے ملی ٹنسی اور علاحد گی پسندی کے بیانیے کو فروغ دینے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی اور اور ا?ئندہ بھی ان کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا‘۔










