33 لاکھ سے زائد گولڈن کارڈ جاری، ہزاروں کروڑ روپے کے علاج کی سہولت فراہم
سرینگر//یو این ایس / جموں و کشمیر میں آیوشمان بھارت وزیر اعظم جن آروگیہ یوجناصحت اسکیم کے تحت صحت کی سہولیات تک عوام کی رسائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور لاکھوں افراد اس اسکیم کے ذریعے مفت علاج سے مستفید ہو رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خطے میں اب تک 33 لاکھ سے زائد گولڈن کارڈ جاری کئے جا چکے ہیں جس کے ذریعے خاندانوں کو سالانہ پانچ لاکھ روپے تک مفت علاج** کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔حکام کے مطابق اسکیم کے نفاذ کے بعد اب تک جموں و کشمیر میں 4.5 لاکھ سے زیادہ مریضوں کو مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں علاج فراہم کیا گیا ہے جبکہ مجموعی طور پر ہزاروں کروڑ روپے مالیت کے دعوئے منظور کئے جا چکے ہیں۔یو این ایس کو دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کے 20 اضلاع میں اس اسکیم کا دائرہ کار وسیع ہے اور ہزاروں مریض دل کے امراض، گردوں کی بیماریوں، کینسر، آرتھوپیڈک سرجری اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔حکام کے مطابق اس وقت جموں و کشمیر میں 230 سے زائد سرکاری اور نجی اسپتال اس اسکیم کے تحت منظور شدہ ہیں جبکہ ملک بھر میں 24 ہزار سے زیادہ اسپتالوں میں گولڈن کارڈ ہولڈرز کو علاج کی سہولت دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ خطے کے مریض دہلی، چندی گڑھ اور دیگر ریاستوں کے بڑے اسپتالوں میں بھی اس اسکیم کے تحت علاج کرا سکتے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسکیم کے تحت سب سے زیادہ کیس کارڈیالوجی، نیفرو لوجی، جنرل سرجری، آرتھوپیڈکس اور آنکولوجی سے متعلق درج کئے گئے ہیں۔ متعدد پیچیدہ سرجریاں بھی اس اسکیم کے ذریعے ممکن ہوئیں جن کی لاگت عام طور پر لاکھوں روپے تک پہنچ جاتی ہے۔حکام کے مطابق اسکیم کے آغاز کے بعد لوگوں میں صحت کے حوالے سے شعور میں بھی اضافہ ہوا ہے اور وہ بیماریوں کے ابتدائی مرحلے میں ہی اسپتالوں سے رجوع کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مریضوں کی جانیں بچانے میں مدد ملی ہے بلکہ مالی بوجھ بھی کم ہوا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اسکیم کے نفاذ کے دوران بعض نجی اسپتالوں کی جانب سے بے ضابطگیوں کی شکایات بھی سامنے آئیں جس کے بعد متعلقہ حکام نے کارروائی کرتے ہوئے چند اسپتالوں کو معطل کیا اور بعض پر جرمانے بھی عائد کئے۔یو این ایس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ فی الوقت یہ اسکیم ٹرسٹ موڈ میں چلائی جا رہی ہے جس کے تحت ریاستی ہیلتھ ایجنسی کلیمز کی منظوری، ادائیگی اور نگرانی کا نظام خود سنبھال رہی ہے۔ماہرین کے مطابق سیہت اسکیم نے جموں و کشمیر میں صحت کے شعبے میں ایک اہم حفاظتی نظام فراہم کیا ہے جس کے ذریعے عام شہریوں کو مہنگے علاج کے اخراجات سے بڑی حد تک تحفظ حاصل ہوا ہے جبکہ سرکاری اسپتالوں کو بھی مالی طور پر مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے۔










