2023 کے 6,120 سے گھٹ کر 2025 میں 5,287 واقعات رونما
سرینگر//یو این ایس/جموں کشمیر میںگزشتہ تین برسوں کے دوران سڑک حادثات میں 13.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں حادثات کی تعداد 6,120 تھی جو 2024 میں کم ہو کر 5,726 اور 2025 میں مزید گھٹ کر 5,287 رہ گئی۔یو این ایس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اس کمی کی بڑی وجہ قانون کے مؤثر نفاذ، روڈ سیفٹی سے متعلق وسیع بیداری پروگراموں اور حفاظتی نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات ہیں۔ 2024 اور 2025 کے دوران ہر سال 10,000 سے زائد آگاہی پروگرام منعقد کیے گئے، ڈرائیوروں کے طبی اور بصری معائنے کرائے گئے اور ابتدائی طبی امداد کی تربیت دی گئی۔ حکومت نے گڈ سیمیریٹن اسکیم اور روڈ ایکسیڈنٹ وکٹم فنڈ کے تحت متاثرین کے لیے کیش لیس علاج کی سہولت بھی فراہم کی۔ٹریفک نفاذی ادارے مکمل طور پر ای چالان نظام پر منتقل ہو چکے ہیں۔ 2024 میں 40,197 ای چالان جاری کیے گئے، 429 گاڑیاں ضبط کی گئیں اور 2,259 ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے گئے۔ 2025 میں کارروائی مزید سخت کرتے ہوئے 52,543 ای چالان جاری کیے گئے، 1,528 گاڑیاں ضبط کی گئیں اور 1,641 لائسنس معطل کیے گئے۔ اسی برس 10,439 گاڑیاں بلیک لسٹ اور 1,192 رجسٹریشن سرٹیفکیٹ منسوخ کیے گئے۔احتیاطی اقدامات کے تحت 2025 میں 4,545 رجسٹرڈ اسکولی بسوں کا آڈٹ کیا گیا۔ ان میں سے 472 بسوں میں نقائص پائے گئے جن میں سے 450 نے نوٹس کے بعد خامیاں دور کر لیں۔ اسی طرح 102 ڈرائیونگ ٹریننگ اسکولوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں 81 قواعد کے مطابق پائے گئے جبکہ 21 کو نوٹس جاری کیے گئے۔ گاڑیوں کی فٹنس جانچ کے دوران رفتار محدود کرنے والے آلات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔روڈ سیفٹی پالیسی جو 2016 میں نافذ کی گئی تھی، اسے 2025 میں سپریم کورٹ کمیٹی برائے روڈ سیفٹی کی سفارشات کے مطابق قومی معیارات سے ہم آہنگ کیا گیا۔ نفاذ کو مضبوط بنانے کے لیے روڈ سیفٹی فنڈ کے تحت 213 موٹر سائیکلیں، 19 موبائل انٹرسیپٹر گاڑیاں، 16 ہائی وے پٹرول گاڑیاں، 23 کرینیں، 685 باڈی وارن کیمرے اور 64 بریتھ الکحل اینالائزر سمیت دیگر سازوسامان خریدا گیا۔محکمہ قانونی میٹرولوجی نے 218 ہیلمٹ فروخت کنندگان کا معائنہ کیا، 69 مقدمات درج کیے اور 4,750 غیر معیاری ہیلمٹ ضبط کیے تاکہ بی آئی ایس معیار کے ہیلمٹ کی فروخت یقینی بنائی جا سکے۔اسمارٹ سٹی مشن کے تحت انٹیلی جنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم جموں اور سری نگر میں فعال ہو چکا ہے۔ بقیہ علاقوں کے لیے 107.32 کروڑ روپے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس میں 25 چوراہوں اور 188 راہداریوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ نئی سڑکوں کے منصوبوں کے لیے روڈ سیفٹی آڈٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔روڈ ایکسیڈنٹ وکٹم فنڈ کے تحت معاوضہ بدستور مقرر ہے، جس کے مطابق موت کی صورت میں 1 لاکھ روپے، مستقل معذوری پر 75,000 روپے، شدید زخمی ہونے پر 50,000 روپے اور معمولی چوٹ پر 10,000 روپے ادا کیے جاتے ہیں۔Jammuجموں کشمیر روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن دور دراز اور بین الریاستی علاقوں میں خدمات جاری رکھے ہوئے ہے۔ جموں سے پٹنی ٹاپ اور سدھمہادیو۔منٹالائی تک برقی بس چلانے کی تجویز زیر غور ہے، تاہم ادھم پور سے آگے چارجنگ ڈھانچے کی کمی کے باعث اسے فی الحال قابل عمل نہیں سمجھا گیا۔کارپوریشن اس وقت شہری راستوں پر 20 برقی بسیں چلا رہی ہے جن کی حد سفر 100 کلو میٹر ہے، جبکہ وزیر اعظم ای ڈرائیو اسکیم کے تحت مزید 200 برقی بسیں حاصل کرنے کی تجویز بھی زیر عمل ہے۔










