سی اے جی کی رپورٹ میں انضباطی اصولوں کی خلاف ورزی، مارچ میں 15 فیصد سے زائد اخراجات پر تشویش
سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر میں مالی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے سی اے جی ے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے مالی سال 2024-25 کے دوران کل سالانہ اخراجات کا تقریباً نصف حصہ آخری سہ ماہی میں خرچ کیا، جو مالیاتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے رپورٹ کے مطابق،کمپیوٹر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا کی جانب سے قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل فنانشل رولز (جی ایف آر) کے رول 62(3) کے تحت مالی سال کے اختتامی مہینوں میں اخراجات میں تیزی کو مالیاتی بدانتظامی تصور کیا جاتا ہے اور اس سے گریز ضروری ہے۔یو این ایس کے مطابق تاہم رپورٹ کے مطابق 2024-25 کے دوران کل اخراجات کا 48.76 فیصد آخری سہ ماہی (جنوری تا مارچ 2025) میں خرچ کیا گیا جبکہ صرف مارچ 2025 میں ہی 15.35 فیصد خرچ ہوا۔ اعداد و شمار کے مطابق آخری سہ ماہی میں 55,807.01 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ مارچ میں 17,571.70 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جو بجٹ کے جلد استعمال کی نشاندہی کرتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم مسئلہ ہے۔ 36 میں سے 23 محکموں نے اپنی سالانہ اخراجات کا 30 فیصد سے زائد آخری سہ ماہی میں خرچ کیا جبکہ 20 محکموں نے مارچ میں ہی 15 فیصد کی حد کو عبور کیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت نے اگست 2024 میں ہدایت جاری کی تھی کہ آخری سہ ماہی میں اخراجات 30 فیصد اور آخری مہینے میں 15 فیصد سے تجاوز نہ کریں، تاہم اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔سی اے جی کے مطابق اخراجات کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط کی پاسداری نہیں کی گئی اور منصوبہ بندی و نگرانی میں خامیاں موجود ہیں، جس کے باعث پورے سال کے دوران اخراجات کے متوازن بہاؤ کا مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔محکمہ جاتی سطح پر بھی صورتحال تشویشناک پائی گئی۔ اینیمل و شیپ ہسبنڈری محکمہ نے اپنی کل رقم کا 33.16 فیصد آخری سہ ماہی میں اور 15.87 فیصد مارچ میں خرچ کیا، جبکہ محکمہ باغبانی نے 33.98 فیصد آخری سہ ماہی میں اور 19.94 فیصد مارچ میں خرچ کیے، جو مقررہ حدود سے کہیں زیادہ ہیں۔ماہانہ اخراجات کے رجحانات سے بھی سال کے اختتام پر اچانک اضافہ دیکھا گیا، خاص طور پر مارچ میں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اخراجات کو مؤخر کر کے آخر میں جلدی جلدی خرچ کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 15 ذیلی مدات کے تحت 18.84 کروڑ روپے کے تمام اخراجات صرف مارچ 2025 میں کیے گئے۔سی اے جی نے خبردار کیا ہے کہ سال کے آخر میں اس طرح کے اخراجات نہ صرف شفافیت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عوامی فنڈز کے غیر مؤثر اور جلد بازی میں استعمال کے خطرات کو بھی بڑھاتے ہیں۔رپورٹ میں مالی منصوبہ بندی، عمل درآمد اور نگرانی میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کے رجحانات مالی لچک کو محدود کرتے ہیں اور اخراجات پر کنٹرول کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔آخر میں ’سی اے جی‘ نے زور دیا کہ بہتر مالی نظم و ضبط، حقیقت پسندانہ بجٹ سازی اور مؤثر نگرانی کے نظام کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی وسائل کا شفاف، جوابدہ اور مؤثر استعمال ممکن بنایا جا سکے۔










