upendar

جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کی نئی بھرتی تقریباً ختم

آپریشن سندور نے بھارت کی تیاری، درست حکمت عملی اور فیصلہ کن صلاحیت کو دنیا کے سامنے واضح کر دیا /جنرل اوپیندر دویدی

سرینگر/ یو این ایس// فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی سے متعلق صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور سال 2025 کے دوران دہشت گردوں کی نئی بھرتی تقریباً ختم ہو چکی ہے، جو ریاست میں امن کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے۔نئی دہلی میں بھارتی فوج کی سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل دویدی نے کہا کہ 2025 کے دوران صرف دو نوجوانوں کے دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے کی اطلاع ملی، جبکہ مجموعی طور پر 31 دہشت گردوں کو مختلف کارروائیوں میں ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے 65 فیصد دہشت گرد پاکستانی نڑاد تھے۔یو این ایس کے مطابق آرمی چیف کے مطابق’’جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کی مقامی بھرتی تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ فعال مقامی دہشت گردوں کی تعداد اب سنگل ڈیجٹ تک محدود ہے، جو سیکورٹی فورسز کی بڑی کامیابی ہے۔‘‘انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ آپریشن مہادیو کے دوران پہلگام حملے میں ملوث تین مرکزی دہشت گردوں کو بھی ہلاک کیا گیا، جس سے دہشت گرد نیٹ ورک کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔جنرل دویدی نے کہا کہ 10 مئی کے بعد، جب بھارت نے آپریشن سندور کے تحت پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، مغربی محاذ اور جموں و کشمیر میں صورتحال حساس ضرور ہے مگر مکمل طور پر قابو میں ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ’’آپریشن سندور ابھی جاری ہے، اور مستقبل میں کسی بھی مہم جوئی کا مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔‘‘آرمی چیف نے وادی میں مثبت تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی سرگرمیوں میں تیزی، سیاحت کی بحالی اور مذہبی سرگرمیوں کا پْرامن انعقاد امن کی واضح علامت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2025 میں شری امرناتھ یاترا میں چار لاکھ سے زائد یاتریوں نے شرکت کی، جو گزشتہ پانچ برسوں کی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ان کے مطابق‘‘دہشت گردی سے سیاحت کی طرف سفر اب ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے۔‘‘یو این ایس کے مطابق شمالی سرحدوں کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے جنرل دویدی نے کہا کہ حالات مجموعی طور پر مستحکم ہیں لیکن مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ اعلیٰ سطحی رابطوں، اعتماد سازی کے اقدامات اور باہمی بات چیت کے نتیجے میں سرحدی علاقوں میں معمول کی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو رہی ہیں، جن میں چراگاہوں کا استعمال، طبی کیمپس اور دیگر سماجی سرگرمیاں شامل ہیں۔ شمال مشرقی بھارت خصوصاً منی پور کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کے بروقت اقدامات اور سیکورٹی فورسز کی غیر جانبدار کارروائیوں کے باعث وہاں بھی 2025 کے دوران حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے دوراند کپ کے کامیاب انعقاد، ثقافتی میلوں کی بحالی اور باغی گروہوں کے ساتھ سیزفائر معاہدوں کو استحکام کی علامت قرار دیا۔ آرمی چیف نے قدرتی آفات کے دوران فوج کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ بھارتی فوج نے دو ہمسایہ ممالک اور ملک کی دس ریاستوں میں انسانی امداد اور راحت رسانی کی کارروائیاں انجام دیں اور 30 ہزار سے زائد افراد کی جانیں بچائیں۔انہوں نے کہا کہ فوج کئی مواقع پر ریاستی حکومتوں کی باضابطہ درخواست سے پہلے ہی متحرک ہو گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فوج قدرتی آفات کے دوران قوم کی اولین مددگار ہے۔جنرل اوپیندر دویدی نے عالمی حالات کے تناظر میں کہا’’؎آج کی دنیا یہ ثابت کر چکی ہے کہ وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو ہمیشہ تیار رہتی ہیں۔ آپریشن سندور نے بھارت کی تیاری، درست حکمت عملی اور فیصلہ کن صلاحیت کو دنیا کے سامنے واضح کر دیا ہے۔‘‘