بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے جشن،مقامی سیاسی پارٹیوں نے دن کو یوم سیاہ قرار دیا
سرینگر// جموں و کشمیر کو خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والے دفعہ370کی تسنیخ کے 2 سال مکمل ہونے پر جموں و کشمیر میں سیاسی لیڈران کا ملا جلا رد عمل دیکھنے کو ملا ۔جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈران نے جموں اور کشمیر کے متعدد مقامات پر جشن منایا جبکہ مقامی سیاسی لیڈران نے اس دن کو یوم سیاہ قرار دیا ہے ۔ اس دوران پی ڈی پی لیڈران اور ورکران کی جانب سے جموں اورسرینگر میں احتجاجی مارچ نکالئے ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ فراہم کرنے والے دفعہ370کے خاتمے کے دو سال مکمل ہونے پر 5اگست کو جموںو کشمیر میں سیاسی پارٹیوں اور لیڈران کی جانب سے ملا جلا رد عمل دیکھنے کو ملا ہے ۔ جہاں جموں و کشمیر کی متعدد سیاسی لیڈان اور پارٹیوں نے ناراض ہو کراس دن کویوم سیاہ کے طور منایا ہے اور اس سلسلے میں جموں اور کشمیر میں پیلز دیموکریٹک پارٹی کی جانب سے احتجاجی م،ارچ کیا گیا ہے ۔اس دوران جموں سرینگر اور اننت ناگ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈران جشن مناکت کیک بھی کاٹے ہیں ۔سرینگر کے چرج لین میں بے جے پی لیڈران کی جانب سے ایک تقریب کا اہتمام میں کیا گیا ہے جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر ترن چگ سمیت متعدد لیڈران نے شرکت کی ہے ۔ جہاں بعد میں ایک ڈسکو بھی سبھی لیڈران نے شروع کیا ہے ۔ادگر اننت ناگ میں بھی اسی طرح کا ایک پروگرام منعقد ہوا ہے جہاں پارٹی کے لیڈران اور ورکران نے ترنگا اٹھا کر جشن منایا ہے ۔اس دوران جموں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر و صدر روندر رینہ کی قیادت میں ایک تقریب منعقد ہوئی ہے جہاں 5اگست کے موقعے پر جشن منایا ہے جشن کے اس پروگرام میں پارٹی کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ہے ۔ 5اگست کو جموں و کشمیر کے اکثر سیاسی پارٹیوں اور لیڈران نے کشمیر کے لئے یوم سیاہ قرار دیا ہے ۔ اس دوران پی ڈی پی، پیپلز کانفرنس، اپنی پارٹی، گانگرس اور پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلیریشن نے پانچ اگست کو یومِ سیاہ قرار دیا ہے۔ اس دوران پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر محبوبہ مفتی کی قیادت میں سرینگر میں ایک احتجاجی مارچ نکالا ہے جس دوران وہ مختلف نعرے لگا رہے تھے ۔ ، تاہم تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے الگ الگ بیانات جاری کیے ہیں۔ علاحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کے نام سے منصوب سوشل میڈیا پر گزشتہ روز ہڑتال کی کال منسوب کی گئی تھی، حالانہ پولیس نے اس کال کو فرضی قرار دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں بڈگام پولیس تھانے میں ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود بھی یہاں وادی کشمیر میں متعدد علاقوں میں جزوی ہڑتال رہا ہے ۔جس دوران پبلک ٹرانسپورٹ کم تعداد میں سڑکوں پر چلتا دیکھا گیا ہے جبکہ بیشتر دکانیں بند تھی ۔اس دوران امن وا مان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے حساس مقامات پر احتیاطی طور فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا تھا خیال5اگست2019کو آج ہی کے دن بی جے پی کی حکومت نے پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کردیا تھا اور سابق ریاست کو مرکز کے زیر انتظام دو خطوں میں تقسیم کردیا تھا۔










