78 فیصد خواتین ورک فورس زراعت میں مصروف، قومی اوسط سے زیادہ
سرینگر/یو این ایس// جموں و کشمیر میں خواتین کی ایک بڑی تعداد زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں سرگرم ہے اور اس لحاظ سے یہ خطہ ملک کے سر فہرست علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہاں تقریباً 77.76 فیصد خواتین ورک فورس زراعت اور متعلقہ سرگرمیوں سے وابستہ ہے، جو قومی اوسط کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔یہ معلومات وزارت زراعت و کسان فلاح و بہبود کی جانب سے راجیہ سبھا میں پیش کیے گئے اعداد و شمار میں سامنے آئی ہیں، جو پیریاڈک لیبر فورس سروے 2023-24پر مبنی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں زراعت میں کام کرنے والی خواتین کی اوسط شرح 64.36 فیصد ہے، جبکہ جموں و کشمیر میں یہ شرح 77.76 فیصد تک پہنچتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کی زرعی معیشت میں خواتین کا کردار انتہائی اہم ہے۔یو این ایس کے مطابق رپورٹ کے مطابق ملک کی چند ریاستوں میں خواتین کی زرعی شعبے میں شرکت جموں و کشمیر سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر بہار میں یہ شرح 82.06 فیصد جبکہ اتر پردیش میں 81.83 فیصد ہے۔ اسی طرح ہماچل پردیش میں 78.45 فیصد اور چھتیس گڑھ میں 77.04 فیصد خواتین زراعت سے وابستہ ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں 2024-25کے دوران 67,902 خواتین کسانوں نے زرعی قرض حاصل کرنے کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ۔ موڈیفائیڈ انٹرسٹ سبونشن اسکیم سے فائدہ اٹھایا، جو دیہی معیشت میں خواتین کے فعال کردار کو ظاہر کرتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اس اسکیم کے تحت زرعی قرض حاصل کرنے والی خواتین کی تعداد 2022-23میں 65,334 سے بڑھ کر 2023-24میں 70,345 ہوگئی تھی، تاہم 2024-25میں یہ تعداد معمولی کمی کے ساتھ 67,902 رہی۔مرکزی حکومت کے مطابق خواتین کسانوں کو مضبوط بنانے کے لیے کئی اسکیمیں نافذ کی جا رہی ہیں جن میں کرشی وگیان کیندر پروگرام کے تحت تربیتی پروگرام، ایگریکلچر ٹیکنالوجی مینجمنٹ ایجنسی اسکیم کے ذریعے جدید زرعی ٹیکنالوجی کی فراہمی اور انٹیگریٹڈ اسکیم فار ایگریکلچرل مارکیٹنگ کے تحت مالی معاونت شامل ہے۔یو این ایس کے مطابق اس کے علاوہ خواتین کسانوں اور خواتین کی زیر قیادت سیلف ہیلپ گروپس کو زرعی مارکیٹنگ انفراسٹرکچر اسکیم کے تحت 33.33 فیصد سبسڈی فراہم کی جاتی ہے، جبکہ دیگر مستفیدین کے لیے یہ شرح 25 فیصد مقرر ہے۔حکام کے مطابق حکومت دیہی علاقوں میں خواتین کسانوں کو تربیت، قرض اور منڈیوں تک رسائی فراہم کر کے ان کے کردار کو مزید مضبوط بنانے اور زرعی شعبے میں خواتین کی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔










