علاج و تشخیص کے لیے جدید سہولیات، پی ای ٹی اسکین یونٹ کی توسیع// وزیر صحت سکینہ ایتو
سرینگر// یو این ایس / / جموں و کشمیر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران 32 ہزار سے زائد کینسر کے معاملات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں تقریباً 79 فیصد کیسز صرف وادی کشمیر میں درج کیے گئے۔ یہ انکشاف جمعہ کو اسمبلی میں وزیر صحت سکینہ ایتو نے کیا۔یو این ایس کے مطابق پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ کے غیر ستارہ شدہ سوال کے جواب میں وزیر موصوفہ نے بتایا کہ کشمیر ڈویڑن میں 2022 سے 2024 کے دوران 25,621 کیسز درج ہوئے، جبکہ جموں ڈویڑن میں 2023 سے 2025 کے درمیان 6,804 کیس رپورٹ کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ عام طور پر پھیپھڑوں، چھاتی، منہ، سروائیکل اور پروسٹیٹ کینسر کے کیسز زیادہ سامنے آ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ معدے اور آنتوں سے متعلق کینسر، جن میں غذائی نالی، معدہ اور کولورییکٹل کینسر شامل ہیں، بھی کثرت سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔محکمہ صحت و طبی تعلیم کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے وزیر صحت نے بتایا کہ کشمیر ڈویڑن میں سال 2022 میں 8,021، 2023 میں 8,621 اور 2024 میں 8,979 کیسز درج ہوئے، جو ہر سال اضافے کا رجحان ظاہر کرتے ہیں۔اسی طرح جموں ڈویڑن میں 2023 میں 2,036، 2024 میں 2,187 اور 2025 میں 2,581 کیس رپورٹ ہوئے، جو بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔وزیر صحت نے کہا کہ کینسر اور دیگر جان لیوا امراض کی روک تھام، جلد تشخیص اور علاج کے لیے مختلف طبی ادارے جامع سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ ان میں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ اور سٹیٹ کینسر انسٹی چیوٹ شامل ہیں، جہاں میڈیکل آنکولوجی، سرجیکل آنکولوجی، ریڈی ایشن آنکولوجی اور کلینیکل ہیمٹولوجی سمیت ہمہ جہتی کینسر نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے بتایا کہ ان اداروں میں جدید تشخیصی و علاجی سہولیات دستیاب ہیں، جن میں پی ای ٹی-سی ٹی، سی ٹی اسکین، مخصوص سی ٹی سمیولیٹر اور جدید ریڈیوتھراپی نظام شامل ہیں۔وزیر نے مزید کہا کہ عوامی بیداری پر بھی خصوصی زور دیا جا رہا ہے تاکہ کینسر کی ابتدائی علامات اور قابلِ ترمیم خطراتی عوامل جیسے تمباکو نوشی سے پرہیز، متوازن غذا اور صحت مند طرز زندگی کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ کینسر کے مریضوں کا علاج اسکیمز صورہ، گورنمنٹ میڈیکل کالجوں اور ان سے منسلک اسپتالوں، ضلع اسپتالوں اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹروں میں کیا جا رہا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر مریضوں کو خصوصی علاج کے لیے اعلیٰ طبی اداروں کو ریفر کیا جاتا ہے۔وزیر صحت کے مطابق پی ای ٹی اسکین کی سہولت اسکیمز صورہ میں دستیاب ہے جبکہ گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر میں 16 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک نیا پی ای ٹی اسکین یونٹ خریدا جا رہا ہے۔جموں ڈویژن میں نجی شعبے کے تحت نارائن سپر اسپشلٹی اور امریک اناکولوجی انسٹی چیوٹ میں بھی پی ای ٹی اسکین کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔










