4,061 دفاتر اور 21,968 صارفین آن بورڈ، ڈیجیٹل گورننس میں پیش رفت
سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر حکومت نے ڈیجیٹل گورننس کے شعبے میں اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے تحصیل اور بلاک سطح پر مکمل طور پر پیپرلیس نظام نافذ کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق 4,061 سرکاری دفاتر اور 21,968 صارفین کو ای آفس 2.0 پر آن بورڈ کیا گیا ہے جس کے بعد فائلوں کی نقل و حرکت مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق ای آفس 2.0 کے نفاذ سے فائل ٹریکنگ میں شفافیت، فیصلہ سازی میں تیزی اور انتظامی کارکردگی میں بہتری آئی ہے جبکہ روایتی کاغذی فائلوں کے استعمال میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے جوابدہی کا نظام بھی مضبوط ہوا ہے۔حکام کے مطابق ای-اْنّت پلیٹ فارم پر اس وقت 1,546 سرکاری خدمات آن لائن دستیاب ہیں اور اب تک 84.61 لاکھ سے زائد درخواستوں پر کارروائی کی جا چکی ہے۔ یہ پلیٹ فارم میری پہچان (نیشنل سنگل سائن آن)، ای پیمنٹ، ریپڈ اسیسمنٹ سسٹم ڈیجی لاکر، اْمانگ اور چیٹ بوٹ ڈیجی سہایک سے مربوط ہے۔ جموں و کشمیر میری پہچان سے انضمام کرنے والی ملک کی پہلی یونین ٹیریٹری بن چکی ہے۔کامَن سروس سینٹرز کے تحت 900 مراکز فعال ہیں۔ ڈیجی دوست ڈور اسٹیپ سروس کے ذریعے 55 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے تقریباً 39 ہزار خدمات فراہم کی گئیں۔ سی ایس سیز نے 16 لاکھ مالی لین دین (تقریباً 350 کروڑ روپے) انجام دیے، 80 ہزار کسانوں کو پی ایم ایف بی وائی کے تحت رجسٹر کیا اور تقریباً 20 لاکھ شہری خدمات فراہم کیں۔سائبر سکیورٹی کے میدان میں 14 سائبر کرائسس مینجمنٹ پلانز کو انڈئن کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپونس ٹیم کی منظوری حاصل ہو چکی ہے۔ 200 سے زائد سرکاری ویب سائٹس اور ایپلیکیشنز کو محفوظ بنایا گیا ہے جبکہ 5,100 اینڈ پوائنٹ ڈیٹیکشن اینڈ ریسپانس اور یونیفائیڈ اینڈ پوائنٹ مینجمنٹ سسٹمز نصب کیے گئے ہیں۔ مختلف محکموں میں چیف انفارمیشن سکیورٹی آفیسرز اور انفارمیشن سکیورٹی آفیسرز نامزد کیے گئے ہیں۔ڈیجی لاکر کے ساتھ 128 خدمات کو مربوط کیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر پہلی یونین ٹیریٹری ہے جس نے منریگا جاب کارڈز، آرٹیزن و ویور رجسٹریشن کارڈز، راشن کارڈز، سیل ڈیڈز، گفٹ ڈیڈز، بجلی و پانی کے بلز کو ڈیجی لاکر سے جوڑا ہے۔ مزید خدمات انضمام کے مرحلے میں ہیں۔انڈیا اے آئی مشن کے تحت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سنٹر آف ایکسی لینس کے قیام کو 20 کروڑ روپے کی لاگت سے منظوری دی گئی ہے جو گورننس، تحقیق اور اسٹارٹ اپس میں اے آئی کے فروغ میں معاون ہوگا۔سکون 2.0 پلیٹ فارم کے ذریعے قدرتی آفات میں امدادی رقم کی تقسیم کا وقت پانچ سے چھ ماہ سے کم ہو کر 15 سے 20 دن رہ گیا ہے۔ گتی شکتی سنچار پورٹل کے تحت رائٹ آف وے درخواستوں کیلئے سنگل ونڈو نظام نافذ کیا گیا ہے۔بھارت نیٹ فیز دوم کے تحت متعدد بلاکس اور گرام پنچایتوں میں فائبر نیٹ ورک کی توسیع جاری ہے جبکہ 4G سیچوریشن پروجیکٹ کے تحت تمام 4,291 گرام پنچایتوں کو موبائل کنیکٹیویٹی فراہم کرنے کا ہدف مقرر ہے۔حکام کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران این آئی سی جموں و کشمیر کی جانب سے 434 ای-گورننس خدمات تیار کی گئی ہیں جو پی ایس جی اے ایکٹ 2011 کے تحت نوٹیفائیڈ اور فعال ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ ان ڈیجیٹل اقدامات سے عوامی خدمات کی فراہمی میں شفافیت، تیزی اور سہولت میں نمایاں بہتری آئی ہے جبکہ جسمانی رابطے میں کمی کے ساتھ سائبر تحفظ کو بھی تقویت ملی ہے۔










