وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی زیر صدارت جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ (JKSSB) کا حالیہ جائزہ ایک بروقت اقدام ہے، خصوصاً اس وقت جب بے روزگاری خطے کا سنگین ترین مسئلہ بن چکی ہے۔ بھرتی کے عمل میں تاخیر، خاص طور پر صحت، تعلیم، بجلی اور مالیاتی شعبوں میں، نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ یہ عوامی خدمات اور ادارہ جاتی نظام کے لیے تباہ کن بھی ہے۔جے کے ایس ایس بی کی رپورٹ میں جہاں کچھ ترقی کی نشاندہی کی گئی، وہیں کئی محکموں کی غفلت اور پرانے بھرتی قوانین کی وجہ سے تاخیر کی صورتحال بھی اجاگر ہوئی۔ انڈینٹس وقت پر نہ دینا، یا ناکارہ نظام کی وجہ سے پوسٹیں خالی رہنا عام ہو چکا ہے۔ یہ تاخیر صرف ایک بیوروکریٹک مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی بحران ہے۔صحت کے شعبے میں، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی کمی سے اسپتالوں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ بجلی کے شعبے میں فنی عملے کی کمی کے باعث عوام کو طویل بجلی بندش کا سامنا ہے۔ دیہی تعلیمی ادارے اساتذہ اور انتظامی عملے کی کمی کا شکار ہیں، جب کہ مالیاتی محکمے بروقت ادائیگیوں میں ناکام ہیں۔مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ نئی پالیسی کے مطابق، دو سال سے خالی پوسٹیں خود بخود ختم کر دی جاتی ہیں۔ اس سے نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے، اور بہت سے قابل امیدوار ریاست سے باہر روزگار تلاش کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ بھرتی کے شیڈول میں تاخیر اور شفافیت کی کمی اعتماد کو مجروح کر رہی ہے۔مسئلے کا حل واضح ہے: بین محکمانہ ہم آہنگی، ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے نگرانی، اور جوابدہی کا مضبوط نظام۔ حکومت کو فوری طور پر ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا، ورنہ نہ صرف نوجوانوں کا مستقبل، بلکہ پورے نظامِ حکمرانی کی ساکھ خطرے میں ہے۔










