جموں و کشمیر میں بجلی و آبی منصوبوں کی تیز رفتار منظوری

جموں و کشمیر میں بجلی و آبی منصوبوں کی تیز رفتار منظوری

حکومت ہند کی طرف سے کستان کو پانی کی فراہمی روکنے کی تیاری

سرینگر// بھارت نے جموں و کشمیر میں دریاؤں پر بجلی اور آبی منصوبوں کی تعمیر کے لیے منظوری کے عمل کو تیز کر دیا ہے، جن کا مقصد تین بڑے دریاؤں—سندھ، جہلم اور چناب—کے پانی کو بھارتی علاقوں کی جانب موڑنا ہے تاکہ پاکستان کی طرف پانی کے بہاؤ کو روکا جا سکے۔ ادھر پاکستان نے اس اقدام کو ممکنہ انسانی بحران قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ذرائع کے مطابق پہلگام میں 26 اپریل کو ہونے والے دہشت گرد حملے، جس میں 25 سیاحوں سمیت 26 شہری جاں بحق ہوئے تھے، کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا تھا۔ اس کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے حالیہ دنوں میں ان تینوں دریاؤں پر مجوزہ منصوبوں کی تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹس اور جاری کاموں کا جائزہ لیا۔جل شکتی کے مرکزی وزیر سی آر پاٹل اور بجلی کے وزیر منوہر لال کھٹر بھی جموں و کشمیر میں ان ہائیڈرو پاور اور آبی منصوبوں کی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں، جن کے ذریعے پاکستان کو جانے والے پانی کی مقدار میں نمایاں کمی لانے کا منصوبہ ہے، جس سے ہمسایہ ملک کے زرعی اور آبی ڈھانچے پر اثر پڑ سکتا ہے۔پاکستان نے اس پیش رفت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور جنرل اسمبلی کے صدر کو خطوط ارسال کیے ہیں۔ یہ خط پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کی جانب سے تحریر کیے گئے ہیں۔یو این ایس کے مطابق چار صفحات پر مشتمل خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد ‘‘پانی کو بطور ہتھیار استعمال’’ کر رہا ہے، جو علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ 24 کروڑ سے زائد آبادی کو متاثر کر سکتی ہے اور ملک میں زرعی و غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں دریاؤں پر جن منصوبوں کے ذریعے پاکستان کی جانب پانی کے بہاؤ کو روکا جائے گا، ان کی ڈی پی آرز یا تو مکمل ہو چکی ہیں یا حتمی مرحلے میں ہیں۔ امت شاہ نے حال ہی میں متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ افسران کو منصوبوں کی تعمیر سے متعلق کئی ہدایات جاری کی ہیں۔حکومت کا منصوبہ ہے کہ نئے ڈیم، ذخیرہ آب کے منصوبے، موجودہ ڈیموں کی ڈی سلٹنگ اور دریاؤں کے رخ کی تبدیلی کے ذریعے پانی کو بھارتی ریاستوں کی جانب منتقل کیا جائے تاکہ آبپاشی اور پانی کی قلت پر قابو پایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق بھارت ان ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کو بھی تیز رفتاری سے مکمل کرنے پر غور کر رہا ہے جن پر ماضی میں پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی شقوں کے تحت اعتراضات اٹھائے تھے۔ معاہدے کی معطلی کے بعد اب بھارت کو پاکستان کو اطلاع دینے یا منظوری لینے کی قانونی پابندی نہیں رہی، جس سے ایک بڑی رکاوٹ ختم ہو گئی ہے۔واضح رہے کہ عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت مشرقی دریا—ستلج، بیاس اور راوی—بھارت کے حصے میں آئے تھے جبکہ مغربی دریا—سندھ، جہلم اور چناب—زیادہ تر پاکستان کے لیے مختص تھے، جن کا سالانہ اوسط بہاؤ تقریباً 135 ملین ایکڑ فٹ بتایا جاتا ہے۔