power

جموں و کشمیر میں بجلی فیس دوسرا بڑا آمدن ذریعہ بن گیا

2024-25میں وصولیاں 4,908 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں

سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر حکومت کیلئے بجلی ٹیرف محصولات کا دوسرا سب سے بڑا ذریعہ بن کر ابھرا ہے، جو جی ایس ٹی وصولیوں کے بعد سرکاری خزانے میں سب سے زیادہ آمدنی فراہم کر رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25کے دوران بجلی ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدنی 4,908 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔حکام کے مطابق پاور سیکٹر میں ریونیو میں اضافہ وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کے نفاذ کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جن کے تحت بڑے پیمانے پر ڈھانچہ جاتی کام جاری ہیں۔یو این ایس کے مطابق مختلف اضلاع میں اسمارٹ میٹرنگ اور ایریل بنچڈ کیبلنگ منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے تاکہ ٹرانسمیشن نقصانات کو کم کیا جا سکے اور بلنگ نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 2025-26کے دوران بجلی کی فراہمی کے معیار اور تسلسل میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کا سہرا سسٹم اسٹرینتھننگ، فیڈر سیگریگیشن اور ٹیکنالوجی پر مبنی مانیٹرنگ کو دیا جا رہا ہے۔اگرچہ بعض علاقوں میں اسمارٹ میٹروں کی تنصیب کے خلاف عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا، تاہم حکومت نے پورے جموں و کشمیر میں اس عمل کو جاری رکھا ہے۔ حکام کے مطابق اسمارٹ میٹرنگ کا مقصد درست بلنگ کو یقینی بنانا، بجلی چوری کی روک تھام اور بجلی کی تقسیم کے نظام کو مالی طور پر مستحکم بنانا ہے۔انتظامیہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بجلی شعبے میں اصلاحات سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے اور مالی استحکام برقرار رکھنے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔