سرینگر///جموں و کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں دہشت گرد تنظیموں میں مقامی نوجوانوں کی شمولیت میں نمایاں کمی آئی ہے، اور رواں سال صرف ایک شخص دہشت گردوں کی صف میں شامل ہوا ہے، جبکہ ماضی میں یہ تعداد 100 سے 150 سالانہ تک پہنچتی تھی۔وائس آف انڈیا کے مطابق ایک قومی میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اب احتجاجی کیلنڈر کی جگہ تعلیمی کیلنڈر جاری ہوتے ہیں، اور امرناتھ یاترا کامیابی سے مکمل ہو رہی ہے۔ “نوجوان روزگار پا رہے ہیں، معیشت دوگنا ہو چکی ہے، اور عوام امن و ترقی پر یقین کرنے لگے ہیں — یہ ایک تاریخی تبدیلی ہے۔لیفٹننٹ گورنر نے الزام لگایا کہ پاکستان اب بھی دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، تاہم ہندوستان ترقی یافتہ قوم بننے کی سمت گامزن ہے اور دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں میں بہترین ہم آہنگی ہے، اور دراندازی کے متعدد واقعات ناکام بنائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 1146 سرکاری خدمات کو آن لائن فراہم کیا جا رہا ہے۔منوج سنہا نے کہا: “پچھلے پانچ سالوں میں بے مثال ترقی ہوئی ہے۔ شفافیت، جوابدہی، اور ترقی میں اضافہ ہوا ہے۔ جموں و کشمیر بینک جو 1139 کروڑ نقصان میں تھا، اب 1700 کروڑ منافع میں ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جموں سے سرینگر کا سفر اب 4.5 گھنٹے میں ممکن ہے جبکہ پہلے 8.5 گھنٹے لگتے تھے۔ 1.5 کروڑ کی لاگت سے شاہراہ اور سرنگوں کے منصوبے زیرِ تعمیر ہیں، اور آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، این آئی ایف ٹی، ایمس اور دیگر تعلیمی و طبی ادارے قائم کیے جا چکے ہیں۔ریاست کی حیثیت کی بحالی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ “پارلیمنٹ میں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ حلقہ بندی اور اسمبلی انتخابات کے بعد ریاستی درجہ بحال کر دیا جائے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی سری نگر میں اس کی توثیق کی تھی۔ ہمیں مناسب وقت کا انتظار کرنا ہوگا۔سابق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے یونین ٹیریٹری میں وزیرِ اعلیٰ بننے کو “منصب کی تنزلی” قرار دینے پر منوج سنہا نے کہا کہ عمر نے انتخابات میں خود شرکت کی تھی اور جانتے تھے کہ جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری ہے۔ “وہ جیتے، اور ان کا عہدہ یو ٹی کا وزیرِ اعلیٰ ہونا طے شدہ تھا۔پرویز پر محکمانہ کاروائی اور اختلافی آوازوں کو دبانے کے الزامات پر انہوں نے کہا: “دہشت گردی سے جڑے ملازمین کے خلاف کارروائی آرٹیکل 311 کے تحت کی گئی ہے، اور یہ مذہب یا برادری کی بنیاد پر نہیں ہے۔لیفٹننٹ گورنر نے اس تاثر کو بھی مسترد کر دیا کہ ریاست میں جمہوریت دب رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں سرگرم ہیں، انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا گیا، اور جمہوریت پوری طرح فعال ہے۔










