جموں و کشمیر میں ریسلنگ کی کھیل کو بڈھاوا دینا وقت کی ضرورت

سری نگر//جموں و کشمیر کے نوجوان جہاں ایک طرف مختلف کھیلوں میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب رہے ہیں وہی خط چناب کے ضلع رام بن کے بانہال سے تعلق رکھنے ولا نوجوان پہلوان رسلر آج تک ملک کے مختلف حصو ں میں جیت درج کرنے میں کامیاب رہا ہے ۔ انہوں نے جموں و کشمیر سرکار سے یہاں رسلنگ کے کھیل کو بڑہاوا دینے کی اپیل کی ہے تاکہ یہاں کے نوجوانوں اس کھیل میں کھیلنے کا موقع مل سکے۔ ۔اکشمیر نیوز سروس کے مطابق خطہ چناب کے بانہال کے نیل گائوں سے تعلق رکھنے والا24سالہ عارف سلیم باروجس کو لوگ پیار سے بادشاہ خان کے نام سے بھی جانتے ہیںجموں و کشمیر کا پہلا پہلوان ہے جس نے ملک کے مختلف علاقوں میں منعقد ہونے والے رسلنگ کے مقابوں میںحصہ لے جموں و کشمیر کا نام روشن کیا ہے ۔ بادشاہ خان نے بتایامیں ہندوستان کے معروف رسلر’ دی گریٹ کھلی ،کا زبردست مداح تھا جس کی وجہ سے میں اس کھیل کی طرف راغب ہوا۔انہوں نے کہا اس کے بعد اس نوجوان پہلوان نے ان کی اکاڈمی میں میںداخل لیا جہاں سے انہوں نے اضابط طور اس کھیل کو اچھی طروح سے کھیلنا سیکھ لیا ہے۔انہوں نے کہا جموں و کشمیر میں نوجوانوں کی ایک بڑیہ تعداد پہلوان بننا چاہتے ہیں تاہم یہاں اس کے لئے کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں ہے ۔خان نے کہا کہ وہ ریسلنگ میں دلچسپی رکھتے ہیں ، بچپن سے ہی ، جب ان کے والد اسے کشتی کی داستان سناتے تھے جس سے اس نے اعتماد پیدا کرنے اور کھیل کے بارے میں رویہ اپنانے کی ترغیب دی۔خان مختلف ریاستوں جیسے پنجاب ، ممبئی ، حیدرآباد ، نیپال ، تامل ناڈو اور دیگر مقامات پر ریسلنگ کھیل چکے ہیں ، تاہم انہوں نے ہمیشہ جموں و کشمیر میں پہلوانوں کے لئے مناسب پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ دنیا کے اعلی ریسلنگ شو میں اپنے پرفارم کرنے کے خوابوں کا پیچھا کرنے کی مشق کر رہے ہیں ، جسے ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ (WWE) کے نام سے جانا جاتا ہے۔انہوں نے جموں وکشمیر حکومت سے اپیل کی۔ کشمیر میں ریسلنگ کے کھیل کو بڑھاوا دیں تاکہ خواہشمند پہلوان اس کھیل میں کیریئر بناسکیں۔