بجٹ اجلاس کیلئے اسمبلی سیکریٹریٹ کو 1500 سے زائد سوالات موصول

جموں و کشمیر میںبجٹ سیشن کی آمد سے اسمبلی سرگرم

2فروری سے4اپریل تک22نشستیں ہونگی،6 فروری کو اسمبلی میں بجٹ سرگرمیوں کا اہم دن

سرینگر/ یو این ایس// جموں و کشمیر میں آئندہ بجٹ سیشن کے قریب آتے ہی سیاسی اور پارلیمانی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ اسمبلی کے ایوان کو منظم کرنے، بجٹ کی تیاری اور قانون ساز عمل کو مؤثر بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کی جس میں بجٹ سیشن کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔یو این ایس کے مطابق جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سیکریٹریٹ نے 5ویں اجلاس کا عبوری کیلنڈر جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق اسمبلی سیشن کا باقاعدہ آغاز 2 فروری 2026 کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے خطاب سے ہوگا۔ اس کے بعد ایل جی کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر کئی دنوں تک بحث اور پھر حکومت کی جانب سے جواب دیا جائے گا۔کیلنڈر کے مطابق 6 فروری کو مالی امور کو خصوصی اہمیت دی جائے گی، جس دن مالی سال 2026-27کے لیے سالانہ مالیاتی گوشوارہ اور مالی سال 2025-26کے لیے ضمنی اخراجات کا گوشوارہ ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد بجٹ پر عمومی بحث ہوگی اور حکومت اس پر اپنا جواب پیش کرے گی۔فروری کے دوران مختلف محکموں کی گرانٹس پر تفصیلی بحث کے لیے کئی نشستیں مختص کی گئی ہیں، جبکہ مارچ میں اپروپریشن بلز، سرکاری امور کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ ممبرز بلز اور قراردادوں کو بھی ایوان میں زیر بحث لایا جائے گا۔اپریل میں بھی اجلاس کا سلسلہ جاری رہے گا، جس میں سرکاری امور کے علاوہ پرائیویٹ ممبرز بلز اور قراردادوں پر غور ہوگا، البتہ 3 اپریل کو گڈ فرائیڈے کے موقع پر اجلاس نہیں ہوگا۔یو این ایس کو ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں خاص طور پر اس تاریخ پر غور کیا گیا جس دن وزیر اعلیٰ بطور وزیر خزانہ اپنا بجٹ ایوان میں پیش کریں گے، اس کے علاوہ اجلاس کے شیڈول، نشستوں کی تعداد اور دیگر پارلیمانی امور بھی زیر بحث آئے۔ ملاقات کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بجٹ سیشن کا باقاعدہ کلینڈر جلد عوام کے سامنے لایا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ بجٹ سیشن دو مرحلوں میں منعقد ہوگا۔ پہلے مرحلے میں بجٹ کو منظور کیا جائے گا جبکہ باقی قانون ساز کارروائی دوسرے مرحلے میں مکمل کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایوان میں کام زیادہ ہوا اور وقت کم پڑا تو ڈبل نشستوں کا بھی سہارا لیا جا سکتا ہے تاکہ تمام امور بروقت نمٹائے جا سکیں۔اسمبلی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے تحت پیپر لیس اسمبلی کے تصور پر بھی غور جاری ہے۔ اسپیکر کے مطابق آئندہ چند دنوں میں اعلیٰ افسران کے ساتھ ایک اہم میٹنگ بلائی جا رہی ہے تاکہ منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر مکمل پیپر لیس نظام فوری طور پر نافذ کرنا ممکن نہ ہوا تو کم از کم جزوی طور پر اس پر عمل درآمد کی کوشش کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ امکاناً 5 سے 7 فروری کے درمیان اپنا دوسرا بجٹ پیش کریں گے۔ چونکہ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن یکم فروری کو پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ پیش کریں گی، اس کے بعد ہی جموں و کشمیر کے بجٹ کو حتمی شکل دی جا سکے گی کیونکہ مرکز سے ملنے والی گرانٹس کا بڑا انحصار اسی پر ہوتا ہے۔یو این ایس کے مطابق قانون ساز اسمبلی کا بجٹ سیشن 2 فروری کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے خطاب سے شروع ہوگا۔ روایت کے مطابق گورنر کے خطاب پر دو سے تین دن بحث ہوگی، اس کے بعد وزیر اعلیٰ اس بحث کا جواب دیں گے اور پھر بجٹ پیش کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ بجٹ سے ایک دن قبل اقتصادی سروے بھی ایوان میں پیش کیا جائے گا۔یہ بجٹ موجودہ حکومت کا تسلسل میں دوسرا بجٹ ہوگا۔ گزشتہ مالی سال 2025-26کا بجٹ 1,12,310 کروڑ روپے کا تھا، جو اس سے پچھلے سالوں کے مقابلے میں کچھ کم رہا۔ تاہم حکومت کا دعویٰ رہا ہے کہ وسائل کے باوجود ترقیاتی منصوبوں پر توجہ برقرار رکھی گئی۔سیاسی لحاظ سے بھی یہ بجٹ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ 2025 میں چھ سال بعد پہلی بار منتخب حکومت کے تحت بجٹ اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔ اس سے قبل کئی برس تک بجٹ یا تو اسٹیٹ ایڈمنسٹریٹو کونسل کے ذریعے منظور ہوتا رہا یا پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا رہا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کوشش کی جائے گی کہ بجٹ ماہِ رمضان کے آغاز (تقریباً 20 فروری) سے قبل منظور کر لیا جائے، جبکہ باقی قانون ساز سرگرمیاں عید کے بعد 21 مارچ کے آس پاس دوبارہ شروع ہوں گی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اسمبلی کیلنڈر سے واضح ہوتا ہے کہ آنے والا اجلاس غیر معمولی طور پر طویل اور مصروف ہوگا، جس میں بجٹ، پالیسی سازی اور قانون سازی سے متعلق کئی اہم فیصلے متوقع ہیں۔