پانچ برسوں میں 2,36,093 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان
سرینگر/یو این ایس//وزارتِ خزانہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق جموں کشمیر بنک میں گزشتہ پانچ مالی برسوں کے دوران 128 فراڈ کے معاملات سامنے آئے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 2,36,093.10 لاکھ روپے سے زائد کی رقم شامل ہے۔وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے ایوان میں ایک غیر ستارہ سوال کے جواب میں بتایا کہ 2020-21سے 2024-25تک بینک میں فراڈ کے یہ معاملات درج کیے گئے، جن پر مجرمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق 2020-21میں 23 معاملات سامنے آئے جن میں 1,51,961.98 لاکھ روپے شامل تھے۔ 2021-22 میں 19 کیس (24,615.60 لاکھ روپے)، 2022-23میں 20 کیس (38,003.61 لاکھ روپے)، 2023-24میں 32 کیس (4,536.82 لاکھ روپے) جبکہ 2024-25میں 34 کیس (16,975.09 لاکھ روپے) رپورٹ ہوئے۔یو این ایس کے مطابق تمام کیسوں میں ایف آئی آر درج کی گئی جبکہ اس دوران 512 ملازمین کے خلاف محکمانہ ذمہ داری بھی طے کی گئی۔اسی عرصے کے دوران بینک میں 2,803 ملازمین کو بھرتی یا مستقل کیا گیا جبکہ 122 کو کنٹریکٹ بنیادوں پر رکھا گیا۔ بینک نے بتایا کہ ریزرو بنک آف انڈیاکے قوانین کے تحت انفرادی قرض دہندگان کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں، تاہم 31 دسمبر 2025 تک سرفہرست 100 نادہندگان پر واجب الادا رقم 4,693 کروڑ روپے تھی۔مختلف برسوں میں ہزاروں قرض کھاتے بھی رائٹ آف کیے گئے۔ 2019-20میں 1,493 کھاتے (13.15 کروڑ روپے)، 2020-21میں 1,367 (4.50 کروڑ)، 2021-22میں 2,500 (29.60 کروڑ)، 2022-23میں 5,861 (38.17 کروڑ)، 2023-24میں 1,860 (28.18 کروڑ)، 2024-25میں 2,699 (18.71 کروڑ) جبکہ 2025-26میں اب تک 2,499 کھاتے (12.50 کروڑ روپے) رائٹ آف کیے گئے۔ری اسٹرکچرڈ اکاؤنٹس میں بھی کمی دیکھی گئی، جو 2019 میں 32,167 سے کم ہو کر 2025 میں 4,124 رہ گئے۔ریکوری کے شعبے میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں 2022-23میں 8,433.11 کروڑ روپے کی وصولی ہوئی، جبکہ دیگر برسوں میں یہ شرح کم رہی۔مزید برآں، ریزرو بینک آف انڈیا نے مختلف برسوں میں ضوابط کی خلاف ورزیوں، بشمول کے وائی سی اور قرضہ جاتی اصولوں کی خلاف ورزی پر بینک پر جرمانے بھی عائد کیے۔










