سرینگر //جموں و کشمیر میں چمڑے ( لیدر)کی صنعت تقریباً ختم ہوئی ہے جبکہ پہلی بار قربانی کے جانوروں کی کھالیں فروخت کرنے کے بجائے پھینک دئے ہیں جس کی وجہ سے ان صنعت کی تباہ کا علم ہوتا ہے ۔جبکہ ہر سال اس صنعت سے وابستہ لوگ اس چمڑے کو گائوں دیہات تک خریدنے کے لئے پہنچتے تھے تاہم امسال ایسا بلکل نہیں ہوا ۔نمائندےکے مطابق جموں و کشمیر میں پہلی بار امسال عید الضحٰی کے موقعے پر پہلی بار قربانی کے جانوروں کی کھالوں کوگوں نے فروخت کرنے کے بجائے پھیک دیا ہے لوگوں کا کہنا تھا کہ یہاں ہر سال اس کار بار سے وابستہ افراد اورکچھ دینی اداروں نے اسے مفت میں بھی نہیں لیا ہے جس کے بعد لوگوں نے اس کھالوں کو پھینک دیا یا کچھ لوگوں نے احتراماً دفن بھی کیا ہے ۔کشمیر نیوز سروس کو مختلف علاقوں سے ملی اطلات کے مطابق وادی ہر عید الضحیٰ کے موقعے پر لاکھوں کی تعداد میں مختلف جانوروں کو قربان کیا گیا ہے جبکہ قربانی کے فوراً بعد یہاں ہر سال چمڑے کے کار بار سے وابستہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد جگہ جگہ پہنچ کر اس ان کھالوں کو خریدتے تھے ۔جبکہ اکثر دینی مدارس اور باقی ادروں کی گاڑیا ںہر علاقے میں گھومتی نظر آتی تھی جہاں لوگ عطیہ کے طور ان کھالوں کو درسگاہوں ،درا لعلوم کو پیش کرتے تھے ۔تاہم مقامی لوگوں نے بتایا اب کی بار ایسا بلکل بھی نہیں ہوا ہے ۔ نہ ہی کوئی کار باری افراد انہیں خریدنے آیا اور نہ ہی کوئی دینی ادارہ مفت میں لینے آیا ہے جس کے بعد لوگوں نے ان کھالوں کو پھینک دیا یا اختراماً زمین میں دفن دیا ہے ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ امسال کورونا وائرس کے پیش نظر لوگوں نے زیادہ تر بھیڑ بکریوں کو ہی قربان کیا تھا تاکہ نذدیکی علاقے میں ہی گوشت کی تقسیم کاری ختم ہو جائے گی اور نتیجے کے طور بھیڑ بکریوں کی کھال ایک وقت میں قیمتی مانی جاتی تھی جس کو اب کی بار کسی نے نہیں لیا۔لوگوں کا ماننا ہے کہ اس بات سے اس صنعت کے ختم ہونے کا اندازہ ہوتا ہے جس کے ساتھ ہزروں کی تعداد میں لوگوں کا روز گار وابستہ تھا ۔










