جموں و کشمیرمیں اسمبلی حلقوں کی سرنو حد بندی کاعمل تیز

سری نگر//جموں و کشمیرکے اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے سلسلے میں ڈپٹی الیکشن کمشنر چندر بھوشن کمار یونین ٹریٹری کے 20 اضلاع کے ڈپٹی کمشنروںکیساتھ ورچوئل میٹنگ کی۔یہ میٹنگ24 جون کو دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کیساتھ جموں و کشمیر کے 14 سیاسی رہنماوں کی ملاقات سے ایک روز پہلے ہوئی ۔ جے کے این ایس کومعلوم ہواکہ ڈپٹی الیکشن کمشنرکی صدارت میں یہ ورچیول میٹنگ 2نشستوں میں منعقدہوئی ۔ پہلی نشست دوپہر سے قبل شروع ہوئی جبکہ دوسری نشست دوپہر کے بعد ہوئی۔یہ ڈپٹی الیکشن کمشنر کی جموں وکشمیرکے ڈپٹی کمشنروں کیساتھ حد بندی کے متعلق پہلی میٹنگ ہے۔ ڈپٹی الیکشن کمشنر چندر بھوشن کمار نے پہلے سیشن میں بدھ کی صبح11بجے سے دوپہر ساڑھے 12بجے تک سری نگر،جموں ،سانبہ ،راجوری ،پونچھ ،کپوارہ ،بانڈی پورہ،بارہمولہ ،گاندربل اوربڈگام کے ضلع ترقیاتی کمشنروں کیساتھ اسمبلی حلقوں کی سرنوحدبندی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنروں سے موجوداسمبلی حلقوں کے رقبے ،محل وقوع،ووٹروں کی تعدادوغیرہ کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔انہوں نے ڈپٹی کمشنروں سے یہ جانکاری بھی حاصل کی کہ کس ضلع کی کتنی آبادی ہے ،وہاں کی آبادی کتنی ہے ،وہاں کتنے اسمبلی حلقے ہیںاوران حلقوں میں ووٹروں کی کل تعدادکیاہے جبکہ ڈپٹی الیکشن کمشنر نے پہلے سیشن یانشست میں شامل ڈپٹی کمشنروں سے یہ جانکاری بھی لی کہ کتنے اسمبلی حلقے دواضلاع کی حدودمیں پڑتے ہیں ،کتنے اسمبلی حلقے سرحدی یاپہاڑی علاقوں پرمشتمل ہیں ۔ ڈپٹی الیکشن کمشنر چندر بھوشن کمار نے ورچیول میٹنگ کے دوسرے سیشن یانشست میں مزیددس اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کیساتھ تبادلہ خیال کیا ،جن میں پلوامہ ،شوپیان ،کولگام،اننت ناگ ،کشتواڑ ،ڈوڈہ ،رام بن ،اودھم پور،ریاسی اورکٹھوعہ اضلاع کے ضلعی ترقیاتی کمشنرشامل ہیں ۔ان دس ڈپٹی کمشنروں کیساتھ ڈپٹی الیکشن کمشنر چندر بھوشن کمار کی ورچیول میٹنگ بعددوپہر ڈیڑھ بجے سے سہ پہر3بجے تک جاری رہی ۔ڈپٹی الیکشن کمیشنر نے دوسرے سیشن میں شامل ڈپٹی کمشنروں سے یہ جانکاری بھی حاصل کی کہ کس ضلع کی کتنی آبادی ہے ،وہاں کی آبادی کتنی ہے ،وہاں کتنے اسمبلی حلقے ہیںاوران حلقوں میں ووٹروں کی کل تعدادکیاہے جبکہ ڈپٹی الیکشن کمشنر نے پہلے سیشن یانشست میں شامل ڈپٹی کمشنروں سے یہ جانکاری بھی لی کہ کتنے اسمبلی حلقے دواضلاع کی حدودمیں پڑتے ہیں ،کتنے اسمبلی حلقے سرحدی یاپہاڑی علاقوں پرمشتمل ہیں ۔ خیال رہے مرکزی سرکارنے جموں وکشمیرمیں اسمبلی حلقوں کی سرنوحدبندی اورممکنہ طورپر کچھ نئے اسمبلی حلقوں کی تشکیل عمل میں لانے کیلئے مارچ2020میں حدبندی کمیشن تشکیل دیاتھا ،جس میں جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے ممبران پارلیمان یعنی لوک سبھا ممبران کوممبرشپ دی گئی ہے۔مذکورہ کمیشن کواپنی رپورٹ5مارچ2021تک مرکزی سرکارکوپیش کرنی تھی تاہم یہ کام پورانہیں ہوپایا ،جسکے بعدمرکزی وزارت برائے قانون نے اس کمیشن کے معیادکارمیں ایک سال کی توسیع کردی ،جسکے تحت حدبندی کمیشن کواب اپنی تفصیلی رپورٹ معہ سفارشات مارچ2022تک پیش کرنی ہیں ۔یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ مرکزی سرکارنے جموں وکشمیرکی اسمبلی میں درجہ فہرست وقبائل کوبھی نمائندگی دینے کافیصلہ لیا ہے اورآئندہ جموں وکشمیرکی اسمبلی میں شیڈولڈ کاسٹ اورشیڈولڈٹرائب کے زمرے میں آنے والے لوگوں وطبقوں کیلئے 10سے12اسمبلی حلقے مخصوص رہیں گے جبکہ موجودہ اسمبلی میں شیڈول کاسٹ زمرے میں آنے والے لوگوں وطبقوں کیلئے8اسمبلی حلقے مخصوص ہیں ۔یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ حد بندی کمیشن نے پہلی میٹنگ فروری میں منعقد کی تھی۔ تاہم نیشنل کانفرنس نے اس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ تاہم گزشتہ ہفتوں سے نیشنل کانفرنس نے اپنے موقف میں نرمی دکھا کر اس کمیشن سے ملاقات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ ختم کرنے اور دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد مرکزی سرکار نے جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ کے تحت یونین ٹریٹری کی اسمبلی حلقوں کی تعداد 90 تک بڑھا دی ہے جس کے لئے انہوں نے حد بندی کمیشن قائم کیا تھا۔اس کمیشن کی سربراہی سابق سپریم کورٹ کے جسٹس رنجن پرکاش دیسائی کر رہے ہیں جبکہ ڈپٹی الیکشن کمشنر سمیت دیگر ممبران بھی اس میں شامل ہیں۔جموں و کشمیر کے پانچ منتخب پارلیمانی ممبران، نیشنل کانفرنس کے دو اور بی جے پی کے تین، اس کمیشن کے ایسوسیٹ ممبران کے طور پر شامل ہیں۔