جموں//جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس گردھاری لال رینہ کے انتقال پر خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے آج ہائی کورٹ کے جموں وِنگ میں چیف جسٹس کے کورٹ روم میں ایک فل کورٹ ریفرنس کا اِنعقاد کیا گیا۔اِس موقعہ پر ایڈوکیٹ جنرل اور صدر جموںوکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن جموں نے اَپنے تعزیتی خطابات میں مرحوم جسٹس جی۔ ایل رینہ کی بطور جج جموںوکشمیر ہائی کورٹ کی خدمات کو یاد کیا۔ایڈوکیٹ جنرل نے اَپنی طرف سے اور وکلاء اور بار کی جانب سے مرحوم جسٹس رینہ کے اِنتقال پر اظہار تعزت کرتے ہوئے مرحوم کی روح کے ابدی سکون کے لئے دعا کی اور سوگوار کنبے کے ہمدردی اور یکجہتی کا اِظہار کیا۔صدر جموںوکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے بھی اَپنی طرف سے اور بار کے ایگزیکٹیوز اور بار کے دیگر ممبران کی طرف سے تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی روح کے ابدی اور دائمی سکون کے لئے دعاکی۔جموںوکشمیر اورلداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ، جسٹس پنکج متھل نے اپنی اور ہائی کورٹ کے دیگر ججوں کی جانب سے مرحوم کی روح کے ابدی سکون اور سوگوار کنبے کے لئے یہ ناقابل نقصان برداشت کرنے کی ہمت کے لئے دعا کی۔دریں اثنا، سری نگر بنچ کے ججوں اور صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سری نگر اور بار ممبران نے فل کورٹ ریفرنس کی کارروائی میں بذریعہ ورچیول موڈ حصہ لیا۔رجسٹرار جنرل نے فل کورٹ ریفرنس کی کارروائی اَنجام دی۔فل کورٹ ریفرنس کا اِختتام مرحوم کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اِختیار کرنے کے ساتھ ہوا۔ریفرنس کے بعد عدالتی کام باقی دِن کے لئے معطل کیا گیا۔










