بے روزگاری، ڈیلی ویجروں کی مستقلی اور آسمان چھوتی مہنگائی کیلئے کچھ نہیں/حسنین مسعودی
سرینگر // جموں و کشمیر کے عبوری بجٹ 2024-25نے حکومت کے اہم شعبوں اور فلاحی اسکیموں کے ساتھ ساتھ سرمائے کے اخراجات سے متعلق اخراجات میں زبردست کمی کی ہے کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان برائے جنوبی کشمیر جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے کہا کہ بے روزگاری، ڈیلی ویجروں کی مستقلی اور آسمان چھوتی مہنگائی کیلئے کچھ نہیںہے ۔ سی این آئی کے مطابق لوک سبھا میں عبوری بجٹ پر بات کرتے ہوئے مسعودی نے کہا کہ لکھپتی دیدی، سروائیکل کینسر کی ویکسی نیشن اور روف ٹاپ سولر اسکیم پردھان منتری سورودیا یوجنا جیسے اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، جو خواتین کی ترقی اور قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی قابل ستائش ہیں۔تاہم انہوں نے زراعت اور اس سے منسلک سرگرمیوں، تعلیم، صحت، سماجی بہبود جیسے کئی شعبوں کیلئے اخراجات کو محدود کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا’’پی ایم کرشی سینچائی یوجنا اور ایس سی اور ایس ٹی اور دیگر گروپوں کیلئے امبریلا اسکیم جیسی اسکیموں کو بجٹ کی سطح سے نیچے رکھا گیا ہے۔‘‘جموں و کشمیر کے حوالے سے مسعودی نے کہا کہ عبوری بجٹ میں یہاں کے اہم شعبوں کو نظرانداز کیا گیا ہے ۔جہاں تک مجموعی اور پائیدار زراعت کو فروغ دینے کا تعلق ہے، زمینی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔زعفران کی پیداوار میں زبردست کمی آئی ہے۔سیاحت کی کوئی نئی مقامات اور سرکٹس سامنے نہیں آئے۔عملے کی شدید کمی کی وجہ سے ہمارا ہیلتھ سیکٹر دباؤ میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لئے بجٹ میں کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری، ، ڈیلی ویجروں کی مستقلی، آسمان چھوتی مہنگائی اور وسیع پیمانے پر انتظامیہ کی بے چینی سے نمٹنے کے لئے بجٹ کسی روڈ میپ سے خالی ہے۔ جہاں تک جمہوریت کو مضبوط کرنے کا تعلق ہے، جموں و کشمیر میں جمہوریت کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی۔ پورا خطہ برسوں سے یو ایل بی، پنچایتوں اور ایک منتخب مقننہ کے بغیر ہے۔










