جموں وکشمیر کے جنگلوں میںکاٹے گئے درختوں کے مطابق شجرکاری نہ ہونے کا سنسنی خیز انکشاف

جموں وکشمیر کے جنگلوں میںکاٹے گئے درختوں کے مطابق شجرکاری نہ ہونے کا سنسنی خیز انکشاف

پچھلے کئی برسوں سے شجر کاری کے لئے مختص کی گئی رقومات میں 58ہزار کروڑ روپے ملک بھر میں خرچ نہ ہونے کے باعث لیپس ہوا

سرینگر/ /اے پی آئی// جموں وکشمیر میںماحولیات کی آلودگی گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ شجرکاری کی غیرسنجیدگی جس بڑی تعداد میں محکمہ جنگلات سٹیٹ فارسٹ کارپوریشن کی جانب سے جتنی تعداد میں جنگلوں سے درختوں کاصفایاہورہا ہے ۔اس مقدار میں شجرکاری نہیں ہو پارہی ہے ۔پچھلے دس برسوں سے جوشجر کاری جموںو کشمیرمیں ہوئی ان میں صرف سو میں سے آٹھ پیڑ ان جگہوں پرموجود ہے جہاں بڑے پیمانے پر شجرکاری کا دعویٰ کیاگیا ۔کموٹرآرڈیٹر جنر ل کی جانب سے جواعداد شمار سامنے لائے گئے ہے ان کے مطابق 58ہزا رکروڑ رقومات جوپیڑ لگانے شجر کاری کویقینی بنانے کے لئے مختص کئے گئے تھے وہ پچھلے کئی برسوں سے افسر شاہی کی غیرسنجیدگی اور اداروں کے لاپرواہی کے باعث ملک میں لیپس ہو رہے ہے ۔اے پی آ ئی نیوز کے مطابق جموں وکشمیرمیں ناوقت موسم کی تبدیلی سردیوں کے ایام میں انتہائی سردی اور گرمیوں میں درجہ حرارت میں اضافہ ہونے کو موسمیاتی ماہرین نے گلوبل وارمنگ اور ماحولیات کی آلودگی سے تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ 1980میں فارسٹ کنزرویشن ایکٹ کاقیام عمل میںلایاگیااور اس ایکٹ کے مطابق جنگلوں سے جتنے پیڑ کاٹے جائے گے ان علاقوں میںان سے وہاں دوگنا پیڑ لگائے جائے گے اور اس ضمن میں کمپا اسکیم کوبھی متعارف کرایاگیا ۔جموںو کشمیرمیں بھی محکمہ جنگلات سوشل فارسٹری سوئل کنزر ویشن دیگر کئی اداروں نے شجر کاری کو اپنانے جموںو کشمیرکو ماحولیات کی آلودگی سے نجات دلانے ،آبی پناہ گاہوں کے تحفظ کویقینی بنانے، گلوبلوارمنگ سے دور رہنے کے بڑے بڑے دعوے کئے گئے ۔ تاہم جموں وکشمیرمیں جہاں تک محکمہ جنگلات سوشل فارسٹری سوئل کنزرویش کاتعلق ہے چند کمپاوں کے بغیر ان کی شجرکاری کی مہم یاتوناکام ثابت ہوچکی ہے یاجوپیڑ پودے جموں وکشمیرکے مختلف علاقوں میں سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے نکال کر خرچ کئے گئے وہ سب ضائع ہوگئے ۔اس کی بنیادی وجہ اگرچہ بار بار اخباروں کے زریعے سامنے لانے کی کوشش کی گئی کہ شجرکاری کے بعد ان پیڑ پودوں کی دیکھ ریکھ ان کی سینچائی انہیں مویشیوں سے محفوظ رکھنے یاان علاقوں میں تا ربندی کے لئے صرف سات فیصد اقدامات اٹھائے جاتے ہے ۔ 52 فیصد علاقوں میں شجرکاری کے بعد پیڑ پودں کو اپنے رحم وکرم پرچھوڑدیاجاتا ہے ۔پچھلے دس برسوں کی شجر کاری کااگروادی کشمیرمیں جائزہ لیاجائے ،محکمہ جنگلات سوشل فارسٹری سوئل کنزر ویشن اور دیگر اداروں نے اس مہم پرکتنی بڑی مقدا رمیں رقومات خرچ کی اگران خرچ کی گئی رقومات کوگہرائی سے جائزہ لیاجائے توصرف چار فیصد پیڑ پودے لگ گئے ہے 96%کانقصان ہو اہے ۔ملک کی پارلیمنٹری اسٹیڈنگ کمیٹی کی جانب سے گزشتہ دنوں ملک میں شجرکاری ماحولیات کی آلودگی گلوبل وارمنگ کے حوالے سے ایک مفصل رپورٹ پیش کی گئی جس میں ماحولیات جنگلات کی وزارت کو متنبہ کیاگیا کہ جس بڑے پیمانے پر شجرکاری کے دعوے کئے گئے ان پر ادارے کھرے نہیں اترے ہے ۔جموںو کشمیرکے چند کمپا محکمہ جنگلات کی سب سے بڑی کامیابی ہے ا سمیں کوئی شک نہیں ۔تاہم شجرکاری ڈھلوان علاقوں میں پیڑ پودے لگانے کے سلسلے میں محکمہ جنگلا ت سوئل کنزرویشن سوشل فارسٹری کی کارکردگی زیرو کے برابر بھی نہیں ہے ۔پارلیمنٹری اسٹیڈنگ کمیٹی نے جموں وکشمیرکے حوالے سے جورپورٹ سرکار کے سامنے رکھی ہے اس رپورٹ نے رونگھٹے کھڑے کردیئے ہے ۔اسٹیڈنگ کمیٹی کے مطابق جموںو کشمیرمیں متعلقہ اداروں کی جانب سے شجرکاری اور کمپاوں کاقیام عمل میں لانے کے لئے صرف 32-42%تک رقومات خرچ کئے گئے ہے ۔ 55%سے زیادہ رقوما ت ہرسال لیپس ہوجاتی ہے ۔پالیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی نے اس بات پرحیرانگی کااظہارکیاہے کہ جموں وکشمیرکے جنگلوں سے ہرسال کروڑوں روپے مالیت کی عمارتی لکڑی جنگلوں سے نکالی جاتی ہے اور جن بڑے پیمانے پردرختوں کاصفایاہورہا ہے اسکے مقابلے میں شجرکاری نہیںہورہی ہے ۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر فکروتشویش کااظہارکیاہے کہ جموںو کشمیر میں بے وقت موسمی تبدیلیاں مستقبل کے حوالے سے انتہائی تشویش ناک ہے ۔گرمیوں کے ایام میں درجہ حرارت میںاضافہ ہونا اور سردیوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلے جانا ا س بات کی عکاسی ہے کہ جموںو کشمیر ماحولیات کی آلودگی اور گلوبل وارمنگ کی لپیٹ میں ہے ۔کمیٹی نے کئی ماہرین کی جانب سے وقت وقت پرسفارشات کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جموںو کشمیرمیں جنگلات ماحولیات سوشل فارسٹری سوئل کنزرویشن کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث جموںو کشمیرمیں آبی پناہ گاہوں کے سکڑنے کے بھی امکانات پید اہوگئے ہے، جبکہ گلیشروں کے پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ ماحولیات کوآلودگی سے بچانے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پرعمل نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ پارلیمانی اسٹیڈنگ کمیٹی نے مرکزی حکومت پرزوردیاکہ پچھلے کئی برسوں سے شجرکاری کے لئے مختص کی گئی رقومات لیپس ہونااس بات کی عکاسی ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری کی جارہی ہے ۔کیگ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ پچھلے دس برسوں سے 58ہزا رکروڑ روپے خرچ نہ ہونے کی وجہ سے لیپس ہوئے ہے ۔