سرینگر //ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیر مین حکیم یاسین نے مرکز پر زوردیا ہے کہ وہ جموں وکشمیر کی موجودہ ہیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے گریز کریں کیونکہ ایسے معملات پر فیصلے کا آیینی اختیار حق صرف ایک منتخبہ عوامی حکومت کو ہی ہے۔ انہوں کہا کہ مرکزی حکومت کو حد کمیشن کے رپورٹ سے قبل ہی جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرواییں تاکہ لوگوں میں اعتماد اور بھروسے کی پیدا کی جاسکے۔خانصاحب بڈگام کے وتر ہڈ کچھواری میں ایک پر ہجوم عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حکیم یاسین نے حد بندی کمیشن ، زرعی زمین میں ترمیم اور سرکاری دفاتر کی نجکاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ ایسے فیصلوں کا ا براہ راست اثر جموں وکشمیر کی موجودہ ہیت سے منسلک ہیں اس لیے انکو نیی منتخبہ عوامی حکومت کے قیام تک کسی بھی چھیڑ چھاڑ کے بغیر التوا میں رکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے طرف سے یکطرفہ اور من مانی طور کیے جارہے فیصلوں پر لوگوں کا اعتماد پوری طرح سے اٹھ گیا ہے اور انہوں نے حدبندی کمیشن اور زرعی زمین میں ترمیم سے متعلق فیصلوں کو یک زبان ہوکر مسترد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ تشویشناک صورتحال کی اصلی ذمہ دار وہ سابقہ حکومتیں ہیں جنہوں نے اقتدار کے لئے لوگوں کے جزبات کا استحصال کیا ہے۔پی ڈی ایف سربراہ نے مرکز پر زوردیا ہے کہ وہ حقیر سیاسی اغراض و مقاصد کے لئے لوگوں کی خواہشات کے برعکس من مانی طریقہ پر کوئی بھی فیصلہ نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے لوگوں کے دلوں میں پایی جا رہی دوریاں مزید بڑھ رہی ہیں۔مقامی عوامی مسائل کا تزکرہ کرتے ہوئے حکیم یاسین نے اس بات پر زبردست برہمی کا اظہار کیا کہ سالی گنگا بجلی پروجیکٹ پر جلدی سے کام شروع کرانے کے لیے متواتر عوامی مطالبے کو ابھی تک پورا نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزکورہ بجلی گھر کی تعمیر خانصاحب کے پسماندہ علاقوں کی سماجی و معاشی ترقی کے لئے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔انہہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے پر زور اپیل کی کہ مزکورہ بجلی گھر کی تعمیر پر فور طور کام شروع کرنے کے احکامات جاری کریں۔انہوں نے پال میدان سیاحتی مقام کو جدید خطوط پر ترقی دینے کے لئے خصوصی رقومات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔










