ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ نے ضرورت مندوں اور بے سہارا لوگوں میں کھانے کی اشیاء تقسیم کیں

جموں وکشمیر کی قبائلی برادریوں کو بدلنے کیلئے ’’فارسٹ رائٹس ایکٹ کی عمل آوری‘‘ ایک تاریخی قدم

جموں//جموں و کشمیر حکومت نے 13ستمبر 2021ء کو ایک تاریخی باب رقم کرتے ہوئے سری نگر میں ایک اہم تقریب میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے فارسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے) 2006 ء کے تحت گجر بکروال اور گڈی سپی کمیونٹیوںکے اِستفادہ کنندگان کو اِنفرادی اور اِجتماعی حقوق کے اَسناد حوالے کئے۔اِس تقریب کو جموںوکشمیر یوٹی میں قبائلی برادریوں کے اَفراد کی زندگیوں کو تبدیل کرنے کی صلاحیت سے ایک اہم قدم کے طور پر سراہا گیا جہاں جنگل میں رہائش پذیر شیڈول ٹرائب اور دیگر روایتی جنگل میں رہنے والوں کے حقوق کو ایک طویل تاخیر کے باوجود تسلیم کیا گیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ،’’14سال سے زائد عرصے کی طویل جدوجہد اور کوششوں کے بعد فارسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے)، 2006 ء کی عمل آوری سے قبائلی برادری کو واجب حقوق عطا کئے گئے ہیںاور سماجی مساوات اور ہم آہنگی کی بنیادی روح کو ذہن میں رکھتے ہوئے جیسا کہ ہمارے ملک کے آئین اور پارلیمنٹ نے اس کی ضمانت دی ہے۔‘‘ وزیر اعظم نریندر مودی کی طر ف سے قبائلی برادری کو فارسٹ رائٹس دینے کی رہنمائی کا سہرا دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ جموںوکشمیر اِنتظامیہ یوٹی میں ایک منصفانہ اور سماجی نظم قائم کرنے کے نظریات پر بھرپور طریقے سے عمل پیرا ہے ۔ جموںوکشمیر یوٹی حکومت قبائلی برادری کو بااِختیار بنانے کے لئے خلوص نیت سے کام کر رہی ہے جو کئی دہائیوں سے ایک ساتھ نظر اَنداز اور امتیازی سلوک کا شکار رہی ۔اِن جنگلات میں رہنے والوں کو جنگلاتی زمین پر حقوق دینے سے قبائلیوں اور خانہ بدوش برادریوں کی 14 لاکھ آبادی کے ایک بڑے حصے کی سماجی و اِقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے تیار ہے گوجر بکروال اور گڈی سیپی شامل ہیں۔یہ لوگ صدیوں سے جنگلاتی زمین پر بغیر کسی حق کے جنگلوں میں رہ رہے ہیں لیکن فارسٹ رائٹس ایکٹ کی عمل آوری ان جنگلات میں رہنے والوں کے لئے بہت مدد گار ثابت ہوا۔ یہ ایکٹ تعصب کو دور کرنے اور جنگلات اور وائلڈ لائف پروٹیکشن کے انتظام میں حصہ لینے کے لئے کمیونٹیوں کو بااِختیار بنانے کی جانب ایک قدم ہے۔ ایکٹ کی تمہید خود نوٹ کرتی ہے کہ یہ قبائلیوں اور دوسروں کے ساتھ تاریخی ناانصافی کو تسلیم کرتا ہے جو روایتی طور پر جنگلاتی علاقوں میں رہ رہے ہیں۔فارسٹ رائٹس ایکٹ ( ایف آر اے) کی دفعات کے مطابق یہ جنگل میں رہائش پذیر شیڈول ٹرائب ( ایف ڈی ایس ٹی ) اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندوںکے ممبران یا ممبران کو رہائش یا خود کاشت کے لئے جنگلاتی زمین رکھنے اوردیگر روایتی جنگل کے باشندے( او ٹی ایف ڈی ) رہنے کا حق فراہم کرتا ہے۔ ایف ڈی ایس ٹی کا تعلق جموں و کشمیر میں گجروں اور بکروالوں سے ہوسکتا ہے اور او ٹی ایف ڈی کا تعلق کشمیری، ڈوگری، پہاڑی یا جنگلوں کے قریب پچھلی 3 نسلوں یا 75 برس یا اس سے زیادہ عرصے سے رہنے والے کسی بھی غیر ایس ٹی لوگوں سے ہوسکتا ہے۔فارسٹ رائٹس ایکٹ یقینی طور پر جموں و کشمیر میں ایکٹ کی اصل روح ماضی میں کی گئی غلطیوں کو درست کرنے اور نچلی سطح پر جمہوریت کو مضبوط کرنے میں مدد کرے گا۔