sports

جموں وکشمیر کو کھیلوں کا پاور ہائوس بنانے کیلئے نئی پالیسیاں متعارف

جموں و کشمیر نے 2020-21 ء میں کھیلوں کے 14 شعبوں میں 72 طلائی، 90 چاندی اور 145 کانسی کے تمغے حاصل کئے

سر ی نگر//جموںوکشمیر حکومت عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ بنانے کے لئے مختلف اِقدامات کر رہی ہے اور جموںوکشمیر کو کھیلوں کا پاور ہائوس بنانے کے لئے نئی پالیسیاں متعارف کی ہیں۔ایک آفیسر نے کہا کہ جموںوکشمیر کے نوجوان بے حد باصلاحیت ہیں اور اَپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے لئے مزید مواقع اور نمائش کے مستحق ہیں۔جموںوکشمیر اِنتظامیہ کے ایک آفیسر نے کہا کہ ہم مقامی کھلاڑیوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لئے پُر عزم ہیںجو مختلف کھیلوں میں جموں و کشمیر اور قوم کا سر فخر سے بلند کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔اُنہوں نے کہا ،’’ جموںوکشمیر حکومت عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کے لئے اہم اِقدامات کر رہی ہے ۔ جموںوکشمیر کو کھیلوں کا پاور ہائوس بنانے کے لئے نئی پالیسیاں عملائی جارہی ہے۔‘‘متعلقہ محکمہ سال بھر کی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرتا ہے جبکہ بنیادی ڈھانچے کا کام پہلے ہی بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔ کھیل پالیسی صرف کرکٹ ، فٹ بال جیسی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دے رہی ہے بلکہ اَب والی بال ، کھوکھو، کبڈی ، واٹر سپورٹس اور سرمائی کھیل جیسی مقبول سرگرمیوں کو بھی اہمیت دے رہی ہے جنہیں ماضی میں نظر اَنداز کیا گیا تھا۔آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد شروع ہونے والے کھیل بنیادی ڈھانچے کی ترقی جموںوکشمیر کے کھیلوں کے میدان میں زبردست تبدیلی لارہی ہے۔یہ بات قابل ذِکر ہے کہ مرکزی وزیر کھیل کرن رجیجونے ہیر ا نگر میں سابق مرکزی وزیر آنجہانی ارون جیٹلی کے نام پر وقف ملٹی سپورٹس فیسلٹی کے سپورٹس ایکسیلنس سینٹر کا اِی۔ اِفتتاح کیا۔یہ سینٹر کھیل ڈھانچے کی اصلاح کے لئے پی ایم ڈی پی سکیم کے تحت 200 کروڑ روپے کے فنڈ مختص لاگت سے قائم ہو رہا ہے ۔ یہ ملک میں اَپنی نوعیت کی پہلی کھیل سہولیت ہوگی جو آنجہانی ارون جیٹلی کا خواب تھا۔جموںوکشمیر اِنتظامیہ نہ صرف سری نگر اور جموں شہروں بلکہ پورے جموںوکشمیر یوٹی میں کھیلوں کی معیاری سہولیات اور تربیت پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ اِس سے پہلے دونوں شہروں سری نگر او رجموں پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ہر ضلع اعلیٰ سطح کے اِنڈور سٹیڈیم سے لیس ہے ۔ اِس کے علاوہ آئوٹ ڈور سٹیڈیم ہر ضلع میں او ریہاں تک کہ بلاک سطح اور پنچایت سطح پر بھی تعمیر ہو رہے ہیں۔ جموں و کشمیریوٹی حکومت جموں و کشمیر میںکھیل ڈھانچے کا مکمل جائزہ لینا چاہتی ہے اور کھلاڑیوں کو تمام سہولیات فراہم کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔اِنتظامیہ جموںوکشمیر کے نوجوانوں کو ایشین گیمز او راولمپکس جیسے بڑے ایونٹوں کے لئے تیار کرنے کی خاطر بھی کام کر رہی ہے ۔ قبل ازیں جموںوکشمیر میں بڑے بین الاقوامی مقابلوں کے لئے کوئی مطلوبہ بنیادی ڈھانچہ ، تربیت اور کوچز نہیں تھے ۔ جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ اِن شعبوںمیں کام کررہی ہے جن میں اولمپک سطح کے کھلاڑی تیار کئے جاسکتے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2020-21ء میں 14 شعبوں میں قومی سطح کے مقابلوں میں جموںوکشمیر کے تمغوں کی تعداد 72طلائی ، 90چاندی اور 145 کانسی کے تمغے تھے۔ سکائر عارف خان جن کا تعلق وادی کشمیر کے ٹنگمرگ کے حاجی بل کے ایک چھوٹے سے گائوں گویوارہ سے ہے ، نے بیجنگ سرمائی اولمپکس میں ہندوستان کے واحد نمائندہ ہونے کا منفرد اعزاز حاصل کیا ہے۔وہ ملک کے پہلے ایتھلیٹ بھی ہیں۔واضح رہے کہ مرکزی وزیر کھیل نے کھیلو اِنڈیا سرمائی کھیلوں کے دوران گلمرگ میں قائم ہونے والے سرمائی کھیلوں کے لئے سینٹر آف ایکسی لینس کا اعلان کیا۔ یہ سینٹرجموں و کشمیر میں سرمائی کھیلوں کے اِمکانات اور ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے قائم کیا جا رہا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموںوکشمیر یوٹی میں کھیلوں کے فروغ کے لئے پہلی بار کھیل پالیسی کو مطلع کیا گیا ہے او راسے اَپنا یا گیا ہے ۔ مالی ترغیبات کے علاوہ یہ قومی او ربین الاقوامی مقابلوں میں تمغے حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کے لئے سرکاری ملازمتوں کی فراہمی کا تصور کرتا ہے ۔ پالیسی دستاویز جموںوکشمیر یوٹی میں کھیلوں کے لئے سٹریٹجک اِنٹرونشنوں سے ایک متحرک ترغیب یافتہ کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کی تشکیل پر زور دیتی ہے ۔ پالیسی کی بنیادی اجزأ ’ سکائوٹ ‘، انگیج‘، ’سہولیت فراہم کرنا‘ اور’ پہچاننا‘ ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی قیادت میں ’کھیل پالیسی‘ دیہی اور شہری دونوں سطحوں پر کھیلوں کی حوصلہ اَفزائی کے لئے موجودہ نظام کی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے اور سب کی شمولیت کو یقینی بناتی ہے۔کوشش یہ ہے کہ جموںوکشمیر کے کھلاڑیوں کو سال بھر کھیلوں کا کافی تجربہ حاصل کرنے میں سہولیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جموںوکشمیر یوٹی سے باہر نوجوانوں کو مناسب نمائش کے مواقع فراہم کئے جائیں۔