جموں//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے ایوان کو بتایا کہ صحت محکمہ نے وادیٔ کشمیر میں گلے سڑے اور غیر محفوظ گوشت و گوشت کی مصنوعات کی فروخت اور ضبطگی کے واقعات کے جواب میں جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں خصوصی اِنسپکشن مہمات چلائی گئیں۔وزیر موصوفہ نے یہ بات ایوان میں ارکان اسمبلی میر سیف اللہ، مبارک گل، پیرزادہ فاروق احمد شاہ اور حسنین مسعودی کے مشترکہ سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ اُنہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ مالی برس 2025-26 (دسمبر 2025) کے دوران 1676 معائینوں کا اِنعقاد کیا گیا جن کے دوران 2139 کلوگرام گوشت ضبط کیا گیا جبکہ 12,183.5 کلوگرام گلا سڑا گوشت مختلف اضلاع میں تلف کیا گیا۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ گوشت اور گوشت کی مصنوعات سے متعلق متعدد افراد،تاجروں،اداروں کے خلاف فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے مختلف دفعات کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔وزیر صحت نے مزید کہا کہ فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرز ایکٹ، 2006 خود مختار قانونی نفاذی میکانزم فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے معائینہ، نمونہ جات، فیصلہ سازی اور قانونی کارروائی کی جاتی ہے اور یہ ایف ایس ایس ایکٹ کی شقوں کی کسی بھی خلاف ورزی کے لئے بی این ایس بھارتیہ نیایاسنہتا2023 کے تحت ایف آئی آر درج کرنے یا گرفتاریاں کرنے کی سہولیت فراہم نہیں کرتاہے۔اُنہوں نے کہا کہ نمونے تجزیے کے لئے جموں و کشمیر میں فوڈ لیبارٹری (کشمیر) اور جموں و کشمیر کے باہر (نیشنل فوڈ لیبارٹری، غازی آباد / ایف آر اے سی ایف آئی سی سی آئی، نئی دہلی اور آئی سی اے آر۔نیشنل میٹ ریسرچ اِنسٹی ٹیوٹ، حیدرآباد) بھیجے گئے ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ 144 گوشت اور گوشت کی مصنوعات کے نمونوں میں سے 17 غیر محفوظ اور ایک معیار سے نیچے تھا۔وزیر نے کہا کہ محکمہ کے پاس این اے بی ایل سے منظور شدہ دو ( ایک جموں اور ایک سری نگر میں) جدید فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریاں ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ محکمہ کے پاس 12 موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریاں بھی ہیں اور وہ ایف ایس ایس اے آئی سے تسلیم شدہ این اے بی ایل سے منظور شدہ لیبارٹریوں جیسے ایف آر اے سی ۔ ایف آئی سی سی آئی نئی دہلی اور نیشنل فوڈ لیبارٹری (این ایف ایل) غازی آباد اور دیگر ایف ایس ایس اے آئی سے منظور شدہ لیبارٹریوں کی خدمات بھی استعمال کرتا ہے جب ضرورت ہو۔اُنہوں نے تسلیم کیا کہ دونوں لیبارٹریوں میں تکنیکی افرادی قوت کی کمی ہے ارو محکمہ خزانہ کی رضامندی سے ریکروٹمنٹ رولز کو حتمی شکل دینے کے بعد خالی اَسامیاں ریکروٹنگ ایجنسیوں کو بھیج دی جائیں گی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے آؤٹ سورس عملہ بھی کام پر لگایا جا رہا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ محکمہ میں شکایات کے ازالے کے لئے ایک موثر میکانزم قائم کیا گیا ہے جس میں کامن ٹول فری نمبر: 104، یو ٹی پورٹل https://dfcojk.org/complaint.phpاورایف ایس ایس اے آی پورٹل https://fssai.gov.in/cms/food-safety-connect.php شامل ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ محکمہ کے پاس 12 موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریاں ہیں اور مکمل طور پر فعال ہیں۔وزیر نے کہا کہ خصوصی مہمات اور تہواروں کے دوران نگرانی اور اقدامات مسلسل مضبوط کئے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری کھانا فراہم کیا جا سکے اور فوڈ بورن بیماریوں کے واقعات کو کم کیا جا سکے۔اِس ضمن میں ارکان اسمبلی ایم وائی تاریگامی، تنویر صادق اور بی ایس منکوٹیہ نے ضمنی سوالات اٹھائے۔










