20اضلاع میں56اسٹیڈیموں وکھیل مراکز کی تعمیر کافیصلہ
سری نگر//جموں و کشمیر انتظامیہ کھیلوں سرگرمیوںکوفروغ دینے نیز کھلاڑیوں کی صلاحیتوںکونکھارنے کیلئے 56سپورٹس اسٹیڈیم اوردیگر کھیل مراکز تعمیر کرے گی۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق جموں و کشمیر کی انتظامیہ تمام 20 اضلاع میں کھیلوں کے56 اسٹیڈیم اور مراکز تعمیر کرے گی تاکہ خطے کے نوجوانوں کی کھیلوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جا سکے۔3 اضلاع کو چھوڑ کر باقی تمام اضلاع میں3 اسپورٹس اسٹیڈیم اورکھیل مراکز بنائے جائیں گے جن میں یوٹی سطح کے کھیل مقابلے بھی منعقد کئے جا سکیں گے۔جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل نے اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے ایک آرڈر زیر نمبر70/KI/SKIC-Slamall-JK/2020-21مہررہ8فروری2023 کے تحت کھیلونڈیا ڈسٹرکٹ لیول سینٹرز کے تحت کھیلوں کے میدان کی تعمیر کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع سری نگر میں فٹ بال، ہاکی اور جمناسٹک کیلئے اسٹیڈیم تعمیر کئے جائیں گے۔ بڈگام میں سائیکلنگ، ووشو اور کبڈی، گاندربل میں بیڈمنٹن، والی بال اور تھانگ تا، بانڈی پورہ میں ہاکی، فٹ بال اور باکسنگ، بارہمولہ میں بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس اور ہاکی، اننت ناگ میں ، والی بال اور کھوکھو، کولگام میں کبڈی اور والی بال،پلوامہ میں ریسلنگ، ہاکی، ٹیبل ٹینس اور اسکیٹنگ، شوپیاں میں والی بال اور تائیکوانڈو اور کپواڑہ میں فٹ بال، کھوکھو اور کبڈی کیلئے اسٹیڈیم تعمیر کئے جائیں گے۔اسی طرح جموں ضلع میں سافٹ ٹینس، ٹیبل ٹینس اور ہاکی،ضلع سانبہ میں والی بال، ریسلنگ اور باکسنگ،ضلع کٹھوعہ میں فٹ بال اور روئنگ، ادھم پور ضلع میں ٹیبل ٹینس، ہینڈ بال اور باسکٹ بال، ضلع ریاسی میں جمناسٹک، ڈوڈہ ضلع میں یوگا، تیر اندازی اورٹیبل ٹینس ، ضلع کشتواڑ میں اتھلیٹس، والی بال اور ٹھگ ٹا،ضلع رام بن میں فٹ بال اور کبڈی، ضلع راجوری میں ٹیبل ٹینس اور ریسلنگ اورضلع پونچھ میں فٹ بال، بیڈمنٹن اور والی بال کیلئے اسٹیڈیم تعمیر کئے جائیں گے جبکہ چارلان فضل آباد میں فٹ بال گراؤنڈ بنایا جا رہا ہے۔انتظامیہ نے 20 اضلاع میں کھیلوں کے56 اسٹیڈیم اور مراکز کیلئے کوچ،Mentorیعنی اتالیق،چمپئن ایتھلیٹس کے طور پر تعینات ہونے کیلئے اہل کھلاڑیوں سے درخواستیں طلب کی ہیں۔جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل کی جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پہلی ترجیح اُن کھلاڑیوں کو دی جائے گی جنہوں نے ہندوستان کی نمائندگی کی ہے اور انہیں متعلقہ کھیلوں میں نیشنل اسپورٹس فیڈریشن آف انڈیاکے ذریعہ تسلیم کیا گیا ہے، دوسری ترجیح ایسے کھلاڑیوں کو دی جائے گی جنہوں نے سینئر نیشنل چمپئن شپ میں تمغے جیتے ہیں یا میڈل جیتے ہیں۔تیسری ترجیح آل انڈیا یونیورسٹی چمپئن شپ میں میڈل جیتنے والوں کو دی جائے گی اور چوتھی ترجیح سینئر نیشنل چمپئن شپ میں ریاست کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں کو دی جائے گی جو NSF کے ذریعہ تسلیم شدہ ہیں اور جنہوں نے کھیلو انڈیا گیمز میں حصہ لیا ہے۔










