cow

جموں وکشمیر میں ڈیری اَنٹرپرینیور شپ ڈیولپمنٹ سکیم منافع بخش ثابت ہوئی ہے

گذشتہ دو برسوں کے دوران جموں وکشمیر میںزائد اَز 10,000 ڈیری یونٹس قائم کئے گئے

جموں//وزیرا عظم نریندر مودی کے نظریۂ کے مطابق 2022ء تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کو یقینی بنانے کے لئے جموںوکشمیر حکومت کی توجہ مرکوز کرنے سے جموںوکشمیریوٹی میں ڈیری فارمنگ فروغ پار ہی ہے ۔مرکزی معاونت والی ڈیری اَنٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ سکیم (ڈی اِی ڈی ایس ) ان اہم اِقدامات میں سے ایک ہے جو جموں و کشمیر کے دیہی منظر نامے کو تبدیل کر رہی ہے۔اِس سکیم کو نبارڈ کے ذریعے عملایا جا رہا ہے جس کا مقصد صاف دودھ کی پیداوار کے لئے جدید ڈیری فارموں کے قیام کو فروغ دینا، گائے کے بچھڑے پالنے کی حوصلہ افزائی کرنا، غیر منظم شعبے میں ساختی تبدیلیاں لانا اور خود روزگار پیدا کرنا ہے۔جموںوکشمیر کو زرعی خطہ ہونے کے پیش نظر زراعت شعبہ جموںوکشمیرکے جی ڈی پی میں 16.18 فیصد کا حصہ اَدا کرتا ہے جس میں سے 35فیصدکا حصہ ڈیری سیکٹر کا ہے۔ یہ سکیم جموںوکشمیریوٹی میں ڈیری ڈیولپمنٹ کو زبردست تقویت دے رہی ہے جس میں لوگوں کی سماجی و اِقتصادی حالت بہت بہتر ہو رہی ہے۔پرنسپل سیکرٹری پشو و بھیڑ پالن محکمہ نوین کمار چودھری نے’پشو دھن ویاپر میلے‘ کا اِفتتا ح کرنے کے دوران کہا تھاکہ ڈیری سیکٹر میں محکمانہ سکیموں کو آسان بنانے کے لئے جموں و کشمیر حکومت کے خصوصی اقدام میں بتدریج تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے کیوں کہ گذشتہ دو برسوں میں 10,000 سے زیادہ نئے ڈیری یونٹس قائم کئے گئے ہیں۔جموں و کشمیر حکومت خود روزگار پیدا کرنے اورجموںوکشمیر یوٹی میں ڈیری شعبے کے لئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی خاطر ڈیری اَنٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ سکیم (ڈی اِی ڈی ایس )کو فروغ دے رہی ہے تاکہ دیہی آبادی کی سماجی و اِقتصادی حالت بہتر ہو۔اینمل ہسبنڈری کے حکام کے مطابق یہ سکیم صحت مند مویشیوں کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے اچھی افزائش نسل کے ذخیرے کی نشوونما اور تحفظ کے لئے بچھڑے کی پرورش کو بھی فروغ دیتی ہے۔حکومت سکیم کے تحت جدید آلات اور ٹیکنالوجی کو اِستعمال کرکے کسانوں کو بہتر منافع کے لئے گاؤں کی سطح پر دودھ کی پروسسنگ لانے کی خاطر غیر منظم شعبے کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ یہ سکیم دودھ کی مصنوعات کی پیداوار اور پروسسنگ کے ذریعے دودھ کی قیمت میں اضافہ کرکے اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے لئے کسانوں کی سودے بازی میں اضافہ بھی فراہم کرتی ہے۔اینمل ہسبنڈری کے ایک اہلکار نے کہا کہ یہ سکیم جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو صاف دودھ کی پیداوار کے لئے جدید ترین ڈیری فارم قائم کرنے اور تجارتی پیمانے پر دودھ کو سنبھالنے کی خاطر روایتی ٹیکنالوجی کو اَپ گریڈ کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اِس سکیم نے ہزاروں نوجوانوں کو ڈیری انٹرپرینیورشپ شروع کرنے کی طرف راغب کیا ہے جس کی وجہ سے حکومت کی طرف سے منافع بخش امداد یعنی سبسڈی اور سکیم کے فوائد کی منظوری میں آسانی ہے۔سکیم کے مطابق کسان ، اِنفرادی کاروباری ، این جی اوز ، کمپنیاں ، پنشنروں ، غیر منظم اور منظم شعبوں کے گروپوں وغیرہ بشمول سیلف ہیلپ گروپوں ، ڈیری کوآپریٹیو سوسائیٹوں ، دودھ یونین ، دودھ فیڈریشن وغیرہ اِس سکیم سے فائدہ اُٹھانے کے اہل ہیں۔ سکیم میں یہ بھی ہے کہ ایک فرد سکیم کے تحت تمام اجزاء کے لئے مدد حاصل کرنے کا (ہر ایک جزو کے لئے صرف ایک بار)اہل ہوگا ۔اِس سکیم کے تحت ایک کنبے کے ایک سے زیادہ افراد کی مدد کی جا سکتی ہے بشرطیکہ وہ مختلف مقامات پر علیحدہ بنیادی ڈھانچہ کے ساتھ علاحدہ یونٹ قائم کریں۔ اس طرح کے دو فارموں کی حدود کے درمیان فاصلہ کم سے کم 500 میٹر ہونا چاہیے۔سکیم کے فنڈنگ پیٹرن کے مطابق کاروباری شراکت (مارجن) آؤٹ لی (کم سے کم) کا 10فیصد ہوگا، بیک اینڈ کیپٹل سبسڈی عام کے لئے 25فیصد اور ایس سی/ایس ٹی کے لئے 33فیصد ہوگی۔ اس کے علاوہ، مؤثر بینک لون بیلنس کا حصہ کم سے کم 40فیصد اخراجات کا ہے اور ادائیگی کی مدت سرگرمی اور نقد کی نوعیت پر منحصر ہوگی اور 3 سے 7 برس کے درمیان مختلف ہوگی۔ اس کے علاوہ ڈیری فارمز کے معاملے میں رعایتی مدت 3 سے 6 ماہ اور بچھڑے پالنے والے یونٹوں کے لئے 3برس تک ہوگی۔بے روزگار نوجوان جو کسی بھی بینک یا مالیاتی اداروں کے ڈیفالٹر نہیں ہیں وہ راشن کارڈ کی فوٹو کاپی، قرض کی رقم ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہونے کی صورت میں رہن رکھنے کے لئے زمین کے کاغذات، زمرہ سر ٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی، اگر کوئی ہے کے ساتھ درخواست دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بی وِی ایس سی اور اے ایچ کے ڈگری سر ٹیفکیٹ کے حامل اُمیدوار بھی موبائل/سٹیشنری ویٹرنری کلینک کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔سکیم کے تحت فنڈس فراہم کرنے والے یونٹ کے اجزاء میں 10 جانوروں (5 لاکھ روپے) تک کراس نسل کی گائے/گریڈڈ بھینسوں کے ساتھ چھوٹے ڈیری یونٹس کا قیام شامل ہے جبکہ یونٹ کا کم سے کم سائز 2 جانور ہے۔ 20 بچھڑوں (4.80 لاکھ روپے) تک کی بھینسوں کی کراس نسل/گریڈڈ بھینسوں کی پرورش اور کم سے کم یونٹ سائز 5 بچھڑے ہیں۔اِس سکیم کے تحت دیسی دودھ کی مصنوعات کی تیاری کے لئے ڈیری پروسسنگ کے آلات کی خریداری کے لئے 12 لاکھ روپے کی سبسڈی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح ڈیری مصنوعات کی ٹرانسپورٹیشن کی سہولیات اور کولڈ چین کے قیام کے لئے 24 لاکھ روپے کا فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ سکیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دودھ اور دودھ کی مصنوعات کے لئے کولڈ سٹوریج کی سہولیات کے قیام کی خاطر 30 لاکھ روپے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پرائیویٹ ویٹرنری کلینک کے قیام کے لئے 2.4 لاکھ روپے فراہم کئے جائیں گے۔ اس سکیم کے تحت موبائل ویٹرنری کلینک کے لیے 1.80 لاکھ روپے کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ سٹیشنری کلینک اور ڈیری مارکیٹنگ آؤٹ لیٹ/ڈیری پارلر کے قیام کے لئے سکیم 56,000روپے فراہم کرے گی۔