جموں وکشمیر میں ملاوٹ شدہ ،پلاسٹ چاول کی فروخت کو روکنے کیلئے باقاعدہ مارکیٹ معائینہ او رچاول کے نمونے لئے جارہے ہیں۔ سکینہ اِیتو

جموں وکشمیر میں ملاوٹ شدہ ،پلاسٹ چاول کی فروخت کو روکنے کیلئے باقاعدہ مارکیٹ معائینہ او رچاول کے نمونے لئے جارہے ہیں۔ سکینہ اِیتو

جموں//وزیربرائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے ایوان کو بتایا کہ محکمہ صحت کی جانب سے جموں و کشمیر بھر میں بشمول سری نگر باقاعدگی کے ساتھ بازاروں کا معائینہ کیا جا رہا ہے اور چاول کے نمونے لئے جا رہے ہیں تاکہ ملاوٹ شدہ یا پلاسٹک چاول کی فروخت کو روکا جا سکے۔وزیر موصوفہ نے یہ بات آج ایوان میں قانون ساز شمیم فردوس کی طرف سے اُٹھائے گئے ’ملاوٹ شدہ چاول‘ سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی ۔وزیر سکینہ اِیتو نے کہا کہ مالی برس 2025-26 کے دوران 121 چاول کے نمونے لئے گئے اور انہیں تجزیے کے لئے این اے بی ایل سے منظور شدہ فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو بھیجا گیا جن میں سے اَب تک 110 ٹیسٹ رِپورٹس موصول ہو چکی ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ سات نمونے ’غیر معیاری معیار‘ (این ایس کیو) کے پائے گئے ہیں اور فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کی دفعات کے تحت مجاز عدالتوں میں مقدمات دائرکئے گئے ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے تحت جموں و کشمیر یوٹی خطے بشمول سری نگر میں چاول کے باقاعدہ مارکیٹ معائینے اور نمونہ جاتی جانچ کر رہا ہے۔ اُنہوں نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ سات این ایس سی نمونوں میں سے تین میں فولک ایسڈ کی مقدار مقررہ معیار سے کم پائی گئی جبکہ چار نمونوں میں چاکلی دانے کی مقدار ایف ایس ایس اے کے تحت مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی۔