سرینگر//جموں وکشمیر کے لوگوں کونہ صرف سیاسی چلینجوں کاسامنا ہے بلکہ انتظامیہ حلفشار اورانتشار بھی لوگوں پربھاری پڑرہاہے عام لوگوں کی زندگی اس وقت اجیرا ن بن کے رہ گئی ہے اور حکومتی سطح پرلوگوں کی راحت رسانی کے لئے کوئی بھی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایاجارہاہے ۔اے پی آ ئی کے مطابق یوسمرگ چرار شریف کے علاقے میں نیشنل کانفرنس کے سینئرلیڈر اور سابق وزیرخزانہ نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر میں لوگ طرح طرح کے مشکلات کاسامناکررہے ہے اور سرکار کی جانب سے زبانی جمع خرچ کے سواورکوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے ۔اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ افرشاہی میں عوام کاکوئی پرسان حال نہیں سرکاری سطح پرآ ئے روز بلندبانگ دعوے کئے جارہے ہے لیکن زمینی سطح پریہ سب کچھ عبس ثابت ہورہاہے تعمیروترقی تو دور کی بات یہاں کی آبادی کوبجلی اور پانی کی جیسی بنیادی ضروریا ت کے لئے ترسایاجارہاہے جس سے عوام کوگوناں گوں مشکلات سے دوچارہونا پڑرہاہے ۔انہوںنے کہاکہ 2014سے قبل (این سی) حکومت کے دوران جن پروجیکٹوں کوشروع کیاگیاتھا موجودہ حکمران ان ہی پروجیکٹوں کی تشہیر بازی کررہی ہے۔ سابق وزیرخزانہ نے کہاکہ جموں کشمیرکانظام اس وقت مکمل طور پردرہم برہم ہے اور افسرشاہی جمہوریت کے لئے سم قاتل ثابت ہورہی ہے۔ عوام مخالف فیصلوں سے جموںو کشمیرکے حالات ہرگزرتے دن کے ساتھ بد سے بدترہوتے جارہے ہے جموں وکشمیرمیں مخصوص نظریہ رکھنے والے افرادکی ائماء پرحکمرانی ہورہی ہے اور ان ہی کے منشاء کے مطابق فیصلے لئے جاتے ہے اور احکامات صادرکئے جاتے ہے یہاں کے آئینی اورجمہوری اداروں کوٹہنس نہس کیاجارہاہے عوام کاکوئی پرسان حال نہیں آ ئے روز نئے فرمان جاری کرنے اور ذررائع ابلاغ میں شطر مرغ نماں اشتہارات اور تشریح بازی کوانتظامیہ چلانے کانام دیاجارہاے ،جبکہ زمینی سطح پرلوگوں کووہ سہولیا ت میسرنہیں جوماضی میں خود بخودہواکرتی تھی ۔










