جموں// نائب وزیر اعلیٰ نے آج کہا کہ حکومت نے جموں و کشمیر کے صنعتی یونٹس، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایم ایس ایم اِیز)، کاریگروں، بُنکروںاور کسانوں کی اِقتصادی کو بہتر بنانے، مالی دباؤ کو دور کرنے اور اِقتصادی لچک کو مضبوط کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔نائب وزیراعلیٰ نے یہ بات ایوان میں رُکن اسمبلی وحید الرحمان پرہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے دباؤ والی صنعتی یونٹوں کی مدد کے لئے جے کے ایم ایس ایم اِی ہیلتھ کلینک قائم کیا ہے جو ایک ادارہ جاتی نظام ہے جس کے ذریعے صنعتی دباؤ کی اِبتدائی علامات کی نشاندہی کی جاتی ہے اور بحالی کے لئے منظم تشخیص اور حسب ضرورت اقدامات فراہم کئے جاتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ مائیکرو اینڈ سمال انٹرپرائزز (سی جی ٹی ایم ایس ای) کے لئے کریڈٹ گارنٹی فنڈ ٹرسٹ کے ساتھ بہتر ربط کے ذریعے ریزنگ اینڈ ایکسلریٹنگ ایم ایس ایم ای پرفارمنس (آر اے ایم پی) پروگرام کے تحت فائنانس تک رَسائی کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر صنعتی پالیسی 2021-30 متعدد مراعات فراہم کرتی ہے جن میں ٹرن اوور اورایس جی ایس ٹی مراعات، گرین اقدامات، ڈیزل جنریٹر سیٹ پر صد فیصد سبسڈی، سٹامپ ڈیوٹی اورکورٹ فیس سے چھوٹ اور کوالٹی سرٹیفیکیشن، آٹو پولیشن کنٹرول کے لئے سبسڈی شامل ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ بیکار ایم ایس ایم ایز کی بحالی اور تجدید کو آر بی آئی کے احیأ او ربحالی کے فریم ورک سے رہنمائی حاصل ہوتی ہے جس سے ذِمہ داریوں کی تنظیم نو اور ضرورت پر مبنی مالی اِمداد ممکن ہوتی ہے۔نائب وزیرا علیٰ نے کاریگر اور بننے والوں کے لئے کہا کہ متعدد ہدف شدہ سکیمیںعملائی جا رہی ہیں جن میں کاریگر اور بننے والوں کے لئے کریڈٹ کارڈ سکیم جس میں 7 فیصد سود کی رعایت کے ساتھ 2 لاکھ روپے تک کے قرض کی پیشکش،کوآپریٹیو اور ایس ایچ جیزکو مالی مدد، سکل اَپ گریڈیشن کے لئے کار خانہ دار سکیم ،ویو ور مدر ا سکیم اور کاریگروں اور بُنکروں کے بچوں کے لئے تعلیمی سکیم شامل ہیں۔










